درمیانی شخص کا رول
الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۱۸
وہ نعیم بن مسعود پر شک کریں اور ان کو دشمنوں کا ایجنٹ (agent) بتا کر اپنے اصحاب سے کہیں کہ یہ شخص خطر ناک آدمی ہے، تم لوگ اس سے بچو۔ اس کے برعکس، پیغمبر اسلام نے اُن کی قدر دانی کی۔ آپ نے فرمایا کہ تم ضرور اپنے منصوبے کے مطابق کوشش کرو۔ کیوں کہ: إنما أنت فينا رجل واحد (سیرت ابن ہشام، جلد 3، صفحہ 247) یعنی تم تو ہمارے درمیان ایک ہی ایسے آدمی ہو: You are only one man among us. So go and awake distrust among نعیم بن مسعود الاشجعی نے اس موقع پر مدینہ کے محاصرے کو ختم کرنے کے لیے جو رول ادا کیا، اس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ یہ عین وہی رول تھا جس کو در میانی شخص کا رول (intermediary role) کہا جاتا ہے۔ انھوں نے جنگ کے بغیر ایک جنگی اقدام کا خاتمہ کر دیا۔ یہ بارہ ہزار کا لشکر جو اُس وقت مدینہ کے خلاف حملہ کرنے کے لیے آیا تھا، وہ سب بعد کو اسلام کے دائرے میں داخل ہو گیا۔
اس اعتبار سے دیکھیے تو نعیم بن مسعود کا یہ رول اپنے اندر بہ یک وقت دو عظیم پہلو رکھتا تھا۔ ایک، جنگ اور خون کے بغیر دشمنانہ محاصرے کا خاتمہ اور دوسرے، اُن لوگوں کو ہلاکت سے بچانا جو اُس وقت متوقع اہلِ ایمان (expected believers) کی حیثیت رکھتے تھے۔
4- اس معاملے کی ایک مثال رجاء بن حیوہ بن جرول الکندی (وفات: 730 ء) کی ہے۔ وہ بنوامیہ کے دور میں خلیفہ سلیمان بن عبد الملک (وفات: 717 ء) کے مصاحب تھے۔ وہ خلیفہ کے معتمد شخص بن گئے تھے۔ اپنی اسی حیثیت کی بنا پر رجاء بن حیوہ کو یہ موقع ملا کہ وہ ایک نازک صورتِ حال میں ایک اہم رول ادا کر سکیں۔ اسی اہم رول کا یہ نتیجہ تھا کہ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں پانچویں خلیفہ راشد عمر بن عبد العزیز (وفات: 720 ء) کا اضافہ ہوا۔ اس معاملے کی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ خلیفہ سلیمان بن عبد الملک ایک سفر میں تھے کہ وہ بیمار ہو گئے، ان کے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues