درمیانی شخص کا رول
الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۱۹
بچنے کی امید نہ رہی۔ اُس وقت رجاء بن حیوہ، خلیفہ کے ساتھ تھے۔ خلیفہ کے براہِ راست وارث موجود تھے، لیکن وہ لائق نہ تھے۔ رجاء بن حیوہ نے سلیمان بن عبد الملک کو راضی کیا کہ وہ ایک وصیت نامہ لکھیں اور اِس وصیت نامے میں عمر بن عبد العزيز کو وہ اپنے جانشین کی حیثیت سے نام زد کر دیں۔ یہ اُس وقت ایک خلاف روایت بات تھی، لیکن رجاء بن حیوہ کے کہنے پر سلیمان بن عبد الملک نے اُس وقت ایک تحریری وصیت تیار کی اور اِس پر اپنی شاہی مہر ثبت کر دی۔ سلیمان بن عبد الملک ابھی سفر ہی میں تھے کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ چناں چہ ان کی تحریری وصیت کے مطابق، ان کی جگہ عمر بن عبد العزيز کو اموی سلطنت کا خلیفہ مقرر کیا گیا۔
5۔ برصغیر ہند میں انگریزوں کا سیاسی غلبہ ہوا تو 1857 میں علماء نے انگریزوں کے خلاف باقاعدہ طور پر مسلح جنگ کی۔ یہ جنگی اقدام علماء کے نزدیک اسلامی جہاد تھا، لیکن انگریزوں کے نزدیک اِس جنگی اقدام کی حیثیت بغاو ت (mutiny) کی تھی۔ چناں چہ انگریزوں نے ان علماء کو حکومتِ وقت کا باغی قرار دے کر ان کے خلاف سخت داروگیر شروع کر دی۔ چوں کہ مسلم عوام نے عام طور پر علماء کے اِس جنگی اقدام کو غلط نہیں سمجھا تھا، اور اُس سے اظہارِ بَرأت (disown) نہیں کیا تھا، اِس لیے تمام مسلمان، انگریزوں کی نظر میں غدّار قرار پا گئے۔ انگریز حکم راں، مسلمانوں کی وفاداری پر شک کرنے لگے۔ اِس کا بھاری نقصان مسلمانوں کو اٹھانا پڑا۔
یہ ایک بے حد نازک معاملہ تھا۔ اُس وقت برصغیر ہند میں صرف ایک نمایاں مسلمان تھے، جو اس مسئلے کے حل کے لیے اٹھے۔ یہ سرسید احمد خاں (وفات: 1898) تھے۔
انھوں نے اپنی مسلسل کوشش کے ذریعے مسلمانوں کے بارے میں انگریزوں کے شکوک وشبہات کو دور کیا۔ انھوں نے علی گڑھ میںمحمڈن کالج (موجودہ مسلم یونیورسٹی) قائم کیا، تا کہ مسلمان انگریزی تعلیم حاصل کریں اور انگریزوں کے دورِ حکومت میں اُن کو با عزت مقام حاصل ہو سکے۔ سرسید احمد خاں کا مشن اتنا زیادہ مفید ثابت ہوا کہ آج مسلم یونیورسٹی کو انڈیا میں مسلمانوں کے وجود و بقا کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues