درمیانی شخص کا رول
الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۲۰
سرسید احمد خاں کو یہ اہم رول ادا کرنے کا موقع کس طرح ملا۔ اُس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ مخصوص حالات کے نتیجے میں سرسید کو انگریزی حکومت اور مسلمانوں کے بیچ میں درمیانی شخص (middleman) کا درجہ حاصل ہو گیا تھا۔ ایک طرف ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ ایک مسلمان تھے، استثنائی طور پر ان کی نمایاں قسم کی شرعی داڑھی ان کے باعمل مسلمان ہونے کی کھلی علامت تھی۔ دوسری طرف یہ کہ انگریزوں کے بارے میں اُن کا رویہ نرم اور معتدل تھا۔ سرسید کی ان دوطرفہ خصوصیات نے ان کو اس قابل بنا دیا کہ وہ انگریزوں کے شدید ردعمل (backlash) کو روک سکیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سرسید کے ذریعے سے یہ کام بخوبی طور پر انجام پایا۔
6۔ اسی طرح کا ایک نام مولانا ابوالکلام آزاد (وفات: 1958) کا بھی ہے۔ 1947 میں برصغیر ہند میں ملک کی تقسیم کا واقعہ پیش آیا۔ ایک طرف انڈیا بنا، اور دوسری طرف پاکستان۔ ملک کی یہ تقسیم مسلمانوں کے مطالبے کے تحت انجام پائی تھی، اس لیے ہندوؤں نے تقسیم کا سارا الزام مسلمانوں کے اوپر ڈال دیا۔ تقسیم کے بعد بننے والے نئے انڈیا میں مسلمانوں کو عام طور پر شک و شبہہ کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔
اس نازک وقت میں مولانا ابوالکلام آزاد نے نہایت اہم رول ادا کیا۔ مخصوص اسباب کے تحت، مولانا ابوالکلام آزاد کو اُس وقت کے ہندوستان میں درمیانی شخص (middleman) کا درجہ حاصل ہو گیا تھا۔ ایک طرف وہ ایک ممتاز مسلم فرد کی حیثیت رکھتے تھے، اور دوسری طرف آزادی کے بعد قائم ہونے والی کانگریسی حکومت میں مولانا ابوالکلام آزاد کو کامل اعتماد کا درجہ حاصل ہو گیا تھا۔ اس مخصوص پوزیشن کی بنا پر مولانا ابوالکلام آزاد کو یہ موقع ملا کہ وہ ہندو اور مسلم کے بیچ درمیانی شخص کا رول ادا کریں۔
1947 کے بعد دہلی اور دوسرے مقامات پر ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے تھے۔ مولاناابوالکلام آزاد نے اُس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو (وفات: 1964) کی مدد سے ان فسادات کو روکنے میں کامیابی حاصل کی۔ انھوں نے لکھنؤ میں 1948 میں آل انڈیا مسلم کنونشن بلایا۔ اس کنونشن میں پورے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues