Al-Risala · August 2008 · page 21

درمیانی شخص کا رول

الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۲۱

ہندوستان سے مسلم نمائندے شریک ہوئے۔ یہ کنونشن نہایت کامیاب رہا۔ اس موقع پر مولانا ابوالکلام آزاد نے جو تقریر کی، اس کو کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس کنونشن نے انڈیا کے مسلمانوں کے لیے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ آزادی (1947) کے بعد مولانا ابوالکلام آزاد گیارہ سال تک زندہ رہے۔ انھوں نے مذکورہ قسم کے بہت سے کام کیے۔ درمیانی شخص کا جو مثبت رول ہوتا ہے، اس پہلو سے مولانا ابوالکلام آزاد بلا شبہ ایک کامیاب مثال کی حیثیت رکھتے ہیں۔

تاریخ کے ہر دور میں درمیانی شخص (middleman) کا رول بہت اہم رہا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ ہر زمانے میں درمیانی شخص کو شبہہ کی نظر سے دیکھا گیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ درمیانی شخص ایک طرف، اپنی قوم سے وابستہ ہوتا ہے اور دوسری طرف، وقت کے حکم رماں اُس سے قریب ہو جاتے ہیں۔ اسی دوطرفہ تعلق کی بنا پر وہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ درمیانی شخص کا اہم رول ادا کر سکے۔ لیکن قوموں کی نفسیات یہ ہے کہ ہمیشہ ارباب اقتدار کے بارے میں ان کی رائے منفی ہوتی ہے۔ ارباب اقتدار کے خلاف اس منفی ذہن کو اینٹی انکمبینسی فیکٹر (anti-incumbency factor) کہا جاتا ہے۔ اس مزاج کی بنا پر جمہوری ملکوں میں ایسا ہوتا ہے کہ ارباب اقتدار کے مقابلے میں ایک اپوزیشن گروپ بن جاتا ہے۔

یہی مزاج درمیانی شخص کا رول ادا کرنے والے افراد کے مقابلے میں بھی کام کرتا ہے۔ ایسا کسی عقلی فیصلے کی بنا پر نہیں ہوتا، بلکہ وہ تمام تر اینٹی انکمبینسی مزاج کے تحت ہوتا ہے۔ اس قومی مزاج نے پہلے بھی کسی درمیانی شخص کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا۔ اور آج بھی ایسے افراد پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھے جاتے۔ درمیانی شخص کے رول کو ہر آدمی اپنے ذاتی معاملے میں بھر پور طور پر استعمال کرتا ہے، لیکن قومی معاملے میں وہ اس کی اہمیت کو بھول جاتا ہے۔

عام طور پر قوموں کا مزاج یہ ہے کہ جو لوگ اُن کے مفروضہ حریف کے خلاف پر جوش تقریریں کریں، ان کو قومیں اپنا دوست سمجھ لیتی ہیں، اور جو شخص ان کے مفروضہ حریف کے بارے میں معتدل انداز میں کلام کرے، اس کو دشمن کا ایجنٹ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ایسا تاریخ میں

‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues

Printed page