Al-Risala · August 2008 · page 23

جدید الحاد۔ ایک تجزیہ

الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۲۳

جدید الحاد۔ ایک تجزیہ

فکری اعتبار سے انسان کی تاریخ کو دو بڑے دوروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے قبل سائنس دور، اور بعد سائنس دور۔ قبل سائنس دور میں فکری اعتبار سے، مذہب انسان کے لیے رُجحان ساز بنا ہوا تھا۔ ماڈرن سائنس کے ظہور کے بعد یہ صورت حال بدل گئی۔ اب سائنس کو عمومی طورپر رجحان ساز (trendsetter) کا درجہ حاصل ہوگیا۔ سائنس بذات خود نہ مذہب کے موافق ہے اور نہ مذہب کے خلاف، لیکن بعض وجوہ سے اس کا یہ عملی نتیجہ نکلا کہ موجودہ زمانے میں تقریباً تمام فکری معاملات میں الحادی نظریہ غالب آگیا۔ ایسا کیوں ہوا، یہاں اس کا ایک جائزہ پیش کیا جارہا ہے۔ موجودہ سیارہ ارض پر انسان ہزاروں سال سے رہ رہا ہے۔ وہ روزانہ بہت سی چیزوں کو ہوتے ہوئے دیکھتا ہے۔ مثلاً سورج کا نکلنا، بارش کا برسنا اور ہواؤں کا چلنا، وغیرہ۔ روایتی طور پر انسان یہ سمجھتا تھا کہ یہ سب کچھ براہ راست طور پر خدا کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔ یہ عقیدہ انسان کے لیے ایک مسلمہ یا ایک بدیہی صداقت (axiom) بن چکا تھا۔ موحد انسان اور مشرک انسان، دونوں کسی نہ کسی طور پر اس کو بطور ایک مسلمہ حقیقت کے مانتے تھے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خالق (مُسبّب) اور نتیجے کے درمیان کسی سبب (cause) کا تصور فکری یا عملی طور پر موجود نہ تھا۔

جدید سائنس کے ظہور کے بعد یہ معلوم ہوا کہ ہر نتیجے سے پہلے بظاہر اس کا ایک مادی سبب (material cause) موجود ہے۔ مثال کے طور پر جدید سائنس کا بانی سر آئر اک نیوٹن (وفات : 1727ء) اپنے باغ میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے سامنے سیب کا ایک درخت تھا۔ درخت سے ایک سیب ٹوٹ کر نیچے گرا۔ نیوٹن سوچنے لگا کہ پھل درخت سے ٹوٹ کر نیچے کیوں آیا، وہ اوپر کی طرف کیوں نہیں چلا گیا۔ آخر کار اُس نے دریافت کیا کہ ہماری زمین میں قوت کشش (gravitational pull) ہے، اِس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ چیزیں اوپر سے نیچے کی طرف آتی ہیں، وہ نیچے سے اوپر کی طرف نہیں جاتیں۔ یہ سائنسی مطالعہ بڑھا، یہاں تک کہ سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ اس دنیا میں جو واقعات ہوتے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues

Printed page