Al-Risala · August 2008 · page 24

جدید الحاد۔ ایک تجزیہ

الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۲۴

ہیں، اُن سب کے پیچھے ہمیشہ ایک سبب (cause) موجود رہتا ہے، ہر نتیجہ کسی سبب کے تحت ظہور میں آتا ہے۔ سائنس دانوں نے اپنی اس دریافت کو قانون تعلیل (principle of causation) کا نام دیا۔ واقعات کو مبنی بر اسباب سمجھنے کا یہ ذہن پھیلتا رہا، یہاں تک کہ وہ انسان کی تمام علمی اور فکری سرگرمیوں پر چھا گیا۔ واقعات کی توجیہہ کے لیے پہلے، خدا کا حوالہ دیا جاتا تھا، اب واقعات کی توجیہہ کے لیے خدا کے بجائے، سبب (cause) کا حوالہ دیا جانے لگا۔

سائنس کی یہ دریافت ابتدائی طور پر اپنے اندر صرف ایک طبعی مفہوم رکھتی تھی۔ خدا کے حوالے سے واقعات کی توجیہہ نہ کرنے کے باوجود وہ خدا سے انکار کے ہم معنی نہ تھی۔ مگر ملحد مفکرین نے، نہ کہ سائنس دانوں نے، نظریاتی ہائی جیک (hijack) کے ذریعے اس کو خدا سے انکار کے ہم معنی بنا دیا۔ یہیں سے وہ نظریہ شروع ہوا جس کو جدید الحاد (modern atheism) کہا جاتا ہے۔ سائنس کی اس دریافت کو لے کر جدید ملحدین نے لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ اب ہمیں واقعات کی توجیہہ کے لیے خدا کو ماننے کی ضرورت نہیں، کیوں کہ واقعات اگر طبعی اسباب کا نتیجہ ہیں، تو وہ مافوق الطبیعی اسباب کا نتیجہ نہیں ہو سکتے:

If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes. جیسا کہ آئندہ ہم واضح کریں گے کہ اس استدلال میں واضح طور پر ناقابل حل منطقی خلا (logical gap) موجود تھا، اس کے باوجود جدید اہل علم کے درمیان اس کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر اس کو خدا کا بدل سمجھا جانے لگا، یہاں تک کہ یہی طرزِ فکر تمام جدید علمی شعبوں میں چھا گیا۔ چند مثالوں سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔

1 - ان میں سے ایک ماڈرن میٹریل ازم (modern materialism) ہے۔ میٹریل ازم ایک فلسفہ بھی ہے، اور ایک کلچر بھی۔ عملی طور پر دیکھیے تو میٹریل ازم کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنی آرزوؤں کی جنت کے حصول کے لیے اب اس کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں کہ اگلی دنیا (آخرت) برپا ہو اور

‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues

Printed page