جدید الحاد۔ ایک تجزیہ
الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۲۵
وہاں خدا اپنی خصوصی عنایت کے طور پر ہمیں جنت عطا کرے۔ اب ہم کو وہ سبب معلوم ہو گیا ہے جس کے ذریعے اسی دنیا میں جنت کی تعمیر ممکن ہے، یہ سبب جدید ٹکنالوجی ہے۔
چناں چہ جدید ٹکنالوجی اور جدید انڈسٹری کے ذریعے اس جنت ارضی کی تعمیر کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ مادیت (materialism) کے نام سے ایک پوری تہذیب ظہور میں آگئی۔ آج کا انسان، خدا سے غافل ہو کر اس تہذیبی جنت کے حصول کے لیے ٹوٹ پڑا۔ جدید انداز کے مکانات اور جدید انداز کے شہر اور جدید انداز کا لائف اسٹائل ہر طرف وجود میں آنے لگا۔ تہذیب جدید کے تحت اس مادی جنت کی تعمیر ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ بعد کی تحقیقات نے خود اُس کی تعمیر ہی کو سرے سے ناممکن ثابت کر دیا۔ طبیعیاتی سائنس نے مزید مطالعے کے بعد بتایا کہ ہماری دنیا میں ضابطۂ ناکارگی (law of entropy) نافذ ہے۔ اس کے تحت، دنیا مسلسل طور پر خاتمے کی طرف جارہی ہے، اور ایک دن آئے گا جب کہ وہ مکمل طور پر ختم ہوجائے۔
اکیسویں صدی میں پہنچ کر اس میں مزید اضافہ ہوا۔ اب معلوم ہوا کہ خاتمے کی یہ مدت بہت قریب آگئی ہے۔ عین ممکن ہے کہ صرف پچاس سال کے اندر وہ تمام ذرائع اور وسائل بالکل تباہ ہو جائیں، جن کی مدد سے مفروضہ مادی جنت تعمیر کی جارہی تھی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ عن قریب وہ اسباب ہی ختم ہو جائیں گے، جن کی بنیاد پر مادی جنت کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ 2- اس معاملے کی ایک مثال ڈارون ازم (Darwinism) ہے۔ پچھلے ہزاروں سال سے انسان یہ مانتا چلا آرہا تھا کہ انواع حیات، بشمول انسان، کو پیدا کرنے والا خدا ہے۔ یہ خداوندِ عالم ہے جو براہِ راست اپنی تخلیق کے ذریعے تمام انواع حیات کو وجود میں لاتا ہے۔ مگر چارلس ڈارون (وفات: 1802) نے مفروضہ طور پر یہاں بھی ایک ’’سبب‘‘ کو دریافت کر لیا، جو مختلف انواع حیات کو وجود میں لانے کا ذمے دار تھا۔ یہ سبب، ڈارون کے الفاظ میں، نیچرل سلیکشن (natural selection) تھا، یعنی حیاتیاتی عمل کے دوران طبیعی اسباب کے تحت مختلف انواع حیات ظہور میں آتی چلی گئیں۔ گویا کہ انواع حیات، یا انسان کو وجود میں لانے والا عنصر ایک مادی سبب (material cause) ہے، نہ کہ غیر مادی خدا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues