جدید الحاد۔ ایک تجزیہ
الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۲۶
ڈارون کا دریافت کردہ سبب (cause) کبھی بھی علمی اعتبار سے ثابت شدہ نہ تھا، وہ صرف ایک مفروضہ تھا۔ مزید یہ کہ خود علماء حیاتیات اس کو ایک ثابت شدہ نظریے کے بجائے صرف ایک کام چلاؤ نظریہ (workable theory) کا درجہ دیتے ہیں۔ حتی کہ خود چارلس ڈارون کو اپنے اس دریافت کردہ مفروضہ پر آخری عمر میں شک پیدا ہو گیا تھا، چناں چہ وہ مایوسی کی حالت میں مرا۔ اس واضح منطقی خامی کے باوجود، ڈارون کے نظریے کو جدید علمی حلقوں میں عمومی مقبولیت (general acceptance) کا درجہ حاصل ہو گیا۔ حتی کہ آج بھی یہ غیر ثابت شدہ نظریہ تمام دنیا کی یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے۔
3- اِسی کی ایک مثال مارکس ازم (Marxism) بھی ہے۔ کارل مارکس (وفات: 1883) نے سماجی معاشیات (social economy) کے معاملے میں بھی اِسی مفروضہ اصول کو منطبق کیا۔ بطور خود اس نے اُس سبب (cause) کو دریافت کیا جس کے تحت، انسانی سماج کے اندر انقلابی تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور سماج ایک خود کار مادی عمل کے تحت، ایک حالت سے ترقی کر کے دوسری حالت تک پہنچ جاتا ہے۔
کارل مارکس نے اس سبب کو تاریخی ناگزیر یت(historical determinism) یا جدلیاتی مادّیت (dialectical materialism) کا نام دیا۔ اُس نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ سماج کے اندر ناگزیر داخلی اسباب کے تحت، دو طبقے (classes) پیدا ہوتے ہیں۔ تاریخی اسباب کے تحت، ان طبقوں کے درمیان ٹکراؤ پیش آتا ہے، اس کے بعد ایک طبقہ مٹ جاتا ہے اور دوسرا طبقہ اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ اس طرح داخلی اسباب کے تحت، انسانی سماج ترقی کرتا رہتا ہے۔
کارل مارکس اور اس کے ساتھیوں کا دریافت کردہ یہ سبب (cause) بھی صرف مفروضہ ثابت ہوا۔ مارکس کی پیشین گوئیوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے، وہ کبھی واقعہ نہ بن سکا۔ جیسا کہ معلوم ہے، سوویت روس میں 1917 میں مصنوعی طور پر یہ انقلاب لایا گیا، مگر عملاً صرف یہ ہوا کہ یہ نظریہ سوویت روس میں پیدا ہوا، اور سوویت روس ہی کے قبرستان میں وہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو گیا
‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues