جدید الحاد۔ ایک تجزیہ
الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۲۷
(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب :’’مارکس ازم—— تاریخ جس کو رد کر چکی ہے‘)۔ 4- جدید کنزیومرازم (modern consumerism) بھی اسی نوعیت کی ایک مثال ہے۔
انسان کے اندر بے پناہ حد تک یہ خواہش ہے کہ وہ اپنے لیے ہر قسم کی راحت اور آسائش کا سامان حاصل کرے۔ جدید صنعتی ترقیوں نے بظاہر اس کو ممکن بنا دیا۔ گویا کہ جدید صنعت وہ سبب (cause) تھا جس کے نتیجے کے طور پر انسان کو ہر قسم کی استعمالی اشیا (consumer goods) حاصل ہو سکتی تھیں۔ چناں چہ لوگ ہر جگہ قائم ہونے والے شاپنگ سنٹروں پر ٹوٹ پڑے۔ لیکن آخر میں معلوم ہوا کہ یہ ’’سبب‘‘ بھی صرف ایک غلط مفروضہ تھا۔ سامان استعمال کی تیاری صرف اس قیمت پر ہوئی کہ موجودہ دنیا انسان کے لیے قابل استعمال ہی نہ رہی۔
مثال کے طور پر کاروں اور ہوائی جہازوں نے بظاہر سفر کو آسان کر دیا، مگر اس کا ناقابل برداشت حد تک منفی نتیجہ کاربن ایمیشن (carbon emissions) اور گرین ہاؤس گیس (green house gases) کی شکل میں نکلا، جس کا حل تلاش کرنے میں تمام سائنس داں عاجز ہو رہے ہیں۔ ائر کنڈیشننگ کے سامانوں کی تیاری کا یہ بھیانک نتیجہ نکلا کہ زندگی بخش اوزون لیئر(Ozone (Ozone layer) میں بہت بڑا سوراخ (hole) پیدا ہو گیا، جو خود انسانی زندگی کے لیے ایک ناقابل حل چیلنج بن گیا، وغیرہ۔ معلوم ہوا کہ غیر مضر انداز میں استعمالی اشیا بنانے کے لیے پلولن فری انڈسٹری (pollution free industry) درکار ہے، اور پلولن فری انڈسٹری کو قائم کرنا سرے سے انسان کے بس ہی میں نہیں۔ 5- اسی معاملے کی ایک مثال بدھ ازم میں پائی جاتی ہے۔ بدھ ازم کو موجودہ زمانے میں تعلیم یافتہ طبقے کے درمیان بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس مقبولیت کا راز بھی وہی چیز ہے، جس کو اوپر ہم نے قانونِ تعلیل (principle of causation) کے تحت بیان کیا ہے۔
جدید سائنس کے زیر اثر موجودہ زمانے میں وہ ذہن بنا، جو ہر چیز کو سبب اور علت (cause and effect) کی اصطلاح میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ بدھ ازم نے زندگی اور موت کے ظاہر ہ کے بارے میں اس اصول کو منطبق کیا۔ اگر چہ یہ انطبا ق تمام تر قیاسی تھا، لیکن بظاہر اسباب پر مبنی
‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues