Al-Risala · August 2008 · page 28

جدید الحاد۔ ایک تجزیہ

الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۲۸

ہونے کی بنا پر وہ جدید مغربی ذہن کے درمیان بہت زیادہ مقبول ہو گیا۔

موجودہ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی غریب خاندان میں پیدا ہوتا ہے اور کوئی امیر خاندان میں، کوئی مصیبت میں جیتا ہے اور کوئی آرام میں۔ بدھ ازم نے مفروضہ طور پر اس کا ایک سبب دریافت کر لیا، وہ یہ کہ ہر آدمی اپنے پچھلے کرم (عمل) کے لازمی نتیجے کے طور پر اپنے عمل کے انجام کو بھگت رہا ہے۔ یہ تو جیہہ چوں کہ بظاہر ”سبب“ کے اصول پر مبنی تھی، اس لیے وہ جدید ذہن کو پسند آگئی اور ان کے درمیان بہت زیادہ مقبول ہو گئی۔ گویا کہ یہاں بھی مادی سبب نے غیر مادی خدا کی جگہ لے لی۔ لیکن بدھ ازم کی یہ تو جیہہ خود سائنسی تحقیق کے مطابق، سرتا سر غیر ثابت شدہ تھی۔ علمِ نفسیات کے شعبے میں جو تحقیقات ہوئی ہیں، ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کا حافظہ (memory) انسانی شخصیت کا ناقابل تقسیم حصہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی انسان اپنے پچھلے جنم کے اعمال کے مطابق، ایک خاص صورت میں نیا جنم لیتا ہے تو اس کو اپنے پچھلے جنم کی ساری باتیں یاد رہنا چاہئیں۔ کیوں کہ یہ اُس کی پچھلی شخصیت (personality) ہی ہے، جو نئی شخصیت کی صورت میں ظاہر ہوئی ہے۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، کسی بھی انسان کو اپنے پچھلے جنم کا معاملہ یاد نہیں۔ بدھ ازم کے نظریے کے مطابق، ہر عورت اور مرد جس کو آج ہم دیکھتے ہیں، خواہ وہ کسی بھی مذہب یا کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہو، وہ خود اپنے پچھلے جنم کا نیا جنم ہے، مگر ان میں سے کسی کو بھی اپنے پچھلے جنم کی بات یاد نہیں۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی ہندو عورت یا کسی ہندو مرد کو پر اسرار طور پر سامنے لایا جاتا ہے، جو اپنے پچھلے جنم کے احوال بتاتا ہے، مگر اس قسم کا شعبدہ کوئی دلیل نہیں۔ کیوں کہ علمی اعتبار سے ایسا واقعہ صرف اُس وقت دلیل بن سکتا ہے، جب کہ تمام ہندوؤں اور غیر ہندوؤں کو اپنے پچھلے جنم کی بات یاد ہو، نہ کہ صرف چند پر اسرار افراد کو۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گوتم بدھ نے جب سما دھی لگائی تھی تو انھوں نے ماضی میں سفر کیا تھا، اور اپنے پچھلے تما جنموں کو دیکھ لیا تھا، مگر یہ دعویٰ تمام تر صرف ایک بے بنیاد دعویٰ ہے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق، اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ گوتم بدھ نے خود اپنی زبان سے ایسا کہا تھا۔ یہ صرف بعد کے شارحین ہیں،

‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues

Printed page