جدید الحاد۔ ایک تجزیہ
الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۲۹
جنھوں نے اپنے قیاس اور استنباط کے ذریعے اس قسم کی بات کہی ہے، اور بعد کے شارحین کا استنباط اس معاملے میں ہرگز کوئی دلیل نہیں بن سکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ قانون تعلیل (principle of causation) اپنی ابتدا ہی میں صرف ایک مفروضے کی حیثیت رکھتا تھا، وہ کوئی علمی دلیل نہ تھا۔ اس کی شہرت یا مقبولیت اس کے علمی وزن کی بنیاد پر نہیں ہوئی، بلکہ صرف جذباتیّت کی بنیاد پر ہوئی۔ لوگوں نے جلد بازی میں ایک ایسے مفروضے کو حقیقت سمجھ لیا، جو اپنے آغاز کے پہلے دن ہی صرف ایک مفروضہ تھا، نہ کہ کوئی واقعی حقیقت۔ جدید ملحدین کے اس استدلال میں واضح طور پر ایک بہت بڑا منطقی خلا تھا، وہ یہ کہ کسی واقعے کا جو سبب (cause) سائنس بتا رہی ہے، وہ اپنے آپ میں کوئی آخری بات نہیں، اس کے بعد بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ یہ سبب کیوں کر وقوع میں آیا۔ حقیقت یہ ہے کہ سبب (cause) اصل معاملے کی توجیہہ نہیں کرتا، سبب خود اس کا محتاج ہے کہ اُس کی کوئی توجیہہ تلاش کی جائے: Cause does not explain, cause itself is in need of an explanation. (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘، God Arises)۔ ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن بمبئی سے شائع ہو رہا ہے۔ ایڈیشن کا نام دی اسپرچول میسیج (The Spiritual Message) ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے :
دی اسپرچول میسیج، فی کاپی -/ 15 روپے، سالانہ -/ 165 روپے ۔ خط و کتابت کا پتہ ہے:
The Spiritual Message 302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India)
Tel.: 2834 1654/ 28346079/ 2821 8609, Fax: 2823 6323 Email: spiritual.msg@gmail.com
‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues