یہ اخلاقی بحران کیوں
الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۳۰
یہ اخلاقی بحران کیوں
مسٹر رِجت ملہوترا ایک انٹر نیشنل بینک میں مینیجر ہیں۔ بینک نے اپنے اعلیٰ عہدے داروں کو مختلف ملکوں میں سیاحت کے لیے بھیجا۔ اس ٹیم میں مسٹر رِجت ملہوترا بھی شامل تھے۔ 15 دسمبر 2007 کو تھائی لینڈ سے اُن کا ٹیلی فون آیا۔ اُنھوں نے کہا کہ میں ایک خدا پر عقیدہ رکھتا ہوں۔ میں دوسری زندگی کو اور جنت ، دوزخ کو مانتا ہوں۔ سفر میں اکثر میں اپنے ساتھیوں سے خدائی موضوعات پر بات کرتا ہوں، مگر میں نے دیکھا کہ ان لوگوں کو اس طرح کے موضوعات سے کوئی دل چسپی نہیں۔ لیکن جب ہم لوگ کسی بڑے شہر میں پہنچتے ہیں تو میں دیکھتا ہوں کہ یہ لوگ شاپنگ کے لیے ٹوٹ پڑتے ہیں۔ میرے سوا ، ٹیم کا ہر آدمی نہایت دل چسپی کے ساتھ خریداریاں کرتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ یہ فرق کیوں ہے۔ کیوں ایسا ہے کہ وہ خدا کے موضوع پر بات کرنے میں کوئی دل چسپی نہیں لیتے، لیکن جب شاپنگ کا موقع آتا ہے تو یہ لوگ نہایت دھوم کے ساتھ شاپنگ کرتے ہیں۔ میں جب اُن سے اس کا سبب پوچھتا ہوں تو وہ یہ کہتے ہیں کہ جب ہم واپس ہو کر گھر پہنچیں گے تو ہمارے گھر والے ہم سے پوچھیں گے کہ تم فلاں فلاں ملک میں گئے، وہاں سے تم ہمارے لیے کیا لائے۔ اُنھوں نے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ یہ لوگ ٹیلی فون پر برابر اپنے گھر والوں سے بات کرتے رہتے ہیں اور خوشی کے لہجے میں یہ کہتے ہیں کہ ہم تمھارے لیے یہ چیز لا رہے ہیں اور وہ چیز لا رہے ہیں۔ اس موضوع پر میں نے غور کیا تو مجھے ایک عرب عالم کی بات یاد آئی۔ یہ محمد العارف ہیں۔ وہ اس وقت مانچسٹر (برطانیہ) میں رہتے ہیں۔ ایک سفر کے دوران اُن سے ملاقات ہوئی تو اُنھوں نے کہا کہ برطانیہ آ کر مجھے یہ دریافت ہوئی کہ موجودہ زمانے کی اخلاقی بُرائیوں کی جڑ کیا ہے۔ وہ ہے— انعام کو منعم سے الگ کر دینا۔ آج کا انسان، خدا کے انعامات کو تو خوب خوب استعمال کر رہا ہے، لیکن وہ خدا کا اعتراف نہیں کرتا جو کہ منعم ہے، جو ان تمام انعامات کو دینے والا ہے۔ یہ تجزیہ بلاشبہ درست ہے اور یہی موجودہ زمانے کی تمام برائیوں کی اصل جڑ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues