یہ اخلاقی بحران کیوں
الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۳۱
موجودہ زمانے کی سب سے بڑی فکری بُرائی یہ ہے کہ اس زمانے میں خالق کو مخلوق سے الگ کر دیا گیا۔ انسان کا اپنا وجود اور اس کے باہر کی تمام چیزیں خدا کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ انسان ان چیزوں کو آخری ممکن درجے تک استعمال کر رہا ہے، لیکن وہ اپنے آپ کو اس سے بے نیاز سمجھتا ہے کہ وہ خدا کا اعتراف کرے، جو تمام موجودات کا خالق حقیقی ہے۔ خالق اور مخلوق کے درمیان اسی تفریق کے نتیجے میں موجودہ زمانے کی تمام برائیاں پیدا ہوئی ہیں۔
دونوں قسم کے ذہن سے دو الگ الگ کلچر پیدا ہوتے ہیں۔ خالق کا اعتراف آدمی کے اندر ذمّے داری کا ذہن پیدا کرتا ہے۔ اس سے مسئولیّت (accountability) کا احساس جاگتا ہے۔ یہ احساس آدمی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ دنیا میں اخلاقی ڈسپلن کے ساتھ زندگی گزارے، کیوں کہ اس کو یہ ڈر ہوتا ہے کہ اگر اس نے اپنی اخلاقی ذمّے داری کو پورا نہیں کیا تو لازمی طور پر وہ خدا کی پکڑ میں آ جائے گا۔ خدائی قانون کے مطابق، وہ سخت سزا کا مستحق بن جائے گا جس سے بچنا اُس کے لیے ممکن نہ ہوگا۔ اس کے برعکس معاملہ اُس انسان کا ہے جو اپنے آپ کو خدا کی پکڑ سے آزاد سمجھتا ہو ۔ ایسے آدمی کا حال یہ ہوگا کہ وہ انسانوں کی بستی میں خوش پوش حیوان کی مانند رہنے لگے گا ،اُس کا پورا کردار غیر ذمّے دارانہ کردار بن کر رہ جائے گا۔
موجودہ زمانے میں یہ غیر ذمّے دارانہ کلچر اپنی آخری حد تک پہنچ چکا ہے۔ آج کا انسان اپنے آپ ہی کو سب کچھ سمجھتا ہے۔ وہ اس نفسیات میں جیتا ہے کہ میں جو چاہوں کروں، مجھے کسی اور سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ اس غیر ذمّے دارانہ کلچر کے نمونے ہر روز سماج میں اور میڈیا میں سامنے آتے رہتے ہیں۔ بطور نمونہ یہاں میں صرف دو حوالے نقل کروں گا۔
اگر آپ آج کل کے کسی بڑے انگریزی اخبار کو پڑھیں تو آپ اُس کے ہر شمارے میں جدید سماج کے نمونے اس کے تقریباً ہر صفحے پر پائیں گے۔ ہر شمارے میں برہنگی (nudity) اتنی زیادہ نمایاں ہوگی کہ آپ کا جی چاہے گا کہ آپ اخبار پڑھنا ہی بند کردیں۔ مثال کے طور پر 17 دسمبر 2007 کے ٹائمس آف انڈیا (Delhi Times) کے صفحہ اوّل کو دیکھیے ۔ اُس میں ایک فلم ایکٹریس کی رنگین تصویر
‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues