شکر ایک اعلیٰ عبادت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۱۸
لعض سر سر من نظام نشان اس کی کُھل کُلاسکِ ادب کا یہ ایک شاندار نمونہ ہے۔
یعنی اس میں نشانیاں ہیں ہر اُس انسان کے لیے جو بہت زیادہ صبر کرنے والا اور بہت زیادہ شکر کرنے والا ہو۔ اس قسم کی آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قانونِ الہی کے مطابق، اعلیٰ شکر کی توفیق صرف اُن لوگوں کو ملتی ہے جو بہت زیادہ صبر کرتے ہوئے اس دنیا میں رہیں ۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو مکمل آزادی دی گئی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ اس بنا پر یہاں مختلف قسم کی برائیاں (evils) پیدا ہوتی ہیں۔ یہ صورتِ حال خدا کے قانون کی بنا پر ہے، انسان اس کو بدلنے پر قادر نہیں۔ اس معاملے میں انسان کو ایک ہی اختیار (option) حاصل ہے، وہ یہ کہ وہ صبر و برداشت سے کام لے، تا کہ وہ دنیا میں نارمل طریقے سے رہ سکے۔
شکر ایک ایسا جذبہ ہے جو صرف ایک ایسے مائنڈ میں پیدا ہوتا ہے جو کامل طور پر مثبت (positive) ہو، کسی بھی قسم کا منفی فکر (negative thought) اس کے ذہن میں موجود نہ ہو۔ مثبت ذہن کا آدمی ہی خدا کی توفیق سے اعلیٰ شکر ادا کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ صبر دراصل شکر کی قیمت ہے۔ جو آدمی یہ قیمت ادا نہ کرے، وہ شکر جیسی اعلیٰ عبادت بھی انجام نہیں دے سکتا۔ ہے، بلکہ یہ یہ بات بھی سامنے ہے کہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues