پندرہ بلین سالہ منصوبہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۱۹
پندرہ بلین سالہ منصوبہ
سائنٹفک اکائونٹ کے مطابق، تقریباً پندرہ بلین سال پہلے، خالق کے حکم سے خلا (space) میں ایک بڑا کا سمک بال وجود میں آیا۔ اس میں وہ تمام اجزا (particles) موجود تھے جو آج ہماری کائنات کا حصہ ہیں۔ خالق کے حکم سے اس عظیم گولے میں ایک انفجار (explosion) ہوا۔ اس انفجار کو عام طور پر بگ بینگ (Big Bang) کہا جاتا ہے۔
کا سمک بال میں انفجار کے بعد اُس کے تمام اجزا وسیع خلا میں پھیل گئے۔ اُس کے بعد خالق کے پلان کے مطابق، وہ مختلف صورتوں میں مجتمع ہونا شروع ہو گئے۔ ان ذرات کے اجتماع سے ان گنت ستارے بنے، کہکشائیں بنیں، ڈارک میٹر بنا، سور سٹم بنا، اِس طرح بتدریج وہ پوری دنیا وجود میں آئی جس کو ہم کائنات (universe) کہتے ہیں۔
اس کے بعد خالق نے سیارہ زمین (planet earth) کو اپنے خصوصی پلان کو بروئے کار لانے کے لیے منتخب کیا۔ لمبی مدت کے عمل کے بعد، سیارہ زمین ٹھنڈا ہوا۔ خالق کے حکم سے یہاں پانی بنا، بارشیں ہوئیں اور دریا اور سمندر وجود میں آئے۔ سیارہ زمین کا تقریباً تین چوتھائی حصہ پانی سے بھر گیا ۔ اُس کے بعد خالق کے منصوبے کے مطابق، سیارہ زمین پر سبزہ اُگا اور زمین کی خشکی کا حصہ ہرے بھرے درختوں اور جنگلوں سے بھر گیا۔
اس کے بعد زمین پر خالق کے خصوصی پلان کے مطابق ، اس کا اگلا حصہ ظہور میں آیا، یعنی حیوانات کی دنیا وجود میں آئی۔ بے شمار قسم کے جانور، مچھلیاں، چڑیاں ، چوپائے اور طرح طرح کی ذی حیات اشیاء سے زمین بھر گئی۔
خالق کے منصوبے کے مطابق، اِس کا اگلا مرحلہ یہ تھا کہ یہاں انسان کو پیدا کر کے سیارہ زمین پر اس کو بسایا جائے۔ چناں چہ انسانِ اَوّل کے طور پر آدم اور ان کی بیوی حوا کو پیدا کیا گیا۔ پھر اُس پہلے جوڑے سے انسانی نسل چلی، یہاں تک کہ زمین کے مختلف حصوں میں انسان کی آبادیاں قائم ہوگئیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues