Nadal on the threshold of a landslide victory.
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۵
رات دن انسان کا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں۔ جو لوگ اپنے اعلیٰ ریکارڈ کے مطابق، جنت کے مستحق ٹھہریں گے، اُن کو منتخب کر کے موت کے بعد کی ابدی زندگی میں جنت میں بسایا جائے گا، جہاں وہ ہمیشہ کے لیے خوشیوں اور راحتوں کی زندگی گزاریں گے۔
یہی وہ بات ہے جو قرآن کی اس آیت میں کہی گئی ہے:
بڑا با برکت ہے وہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے، اور وہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے:
Glory is to God in whose hand is the kingdom, and He has power over all things; who created death and life, so He may test you, which of you is best in action. He is the mighty, the Most Forgiving. (67: 1-2). انسان اوّل (آدم) کے بعد بے شمار لوگ پیدا ہو کر زمین پر آباد ہوئے اور بدستور پیدا ہو کر آباد ہو رہے ہیں، مگر خدا کو صرف وہ عورت اور مرد مطلوب ہیں جو اُس کے تخلیقی پلان کے مطابق، احسن العمل (best in deed) ثابت ہوں۔
خدا کے اس تخلیقی پلان کے مطابق، انسان اگر چہ ابدی مخلوق (eternal being) کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے، لیکن سیارہ زمین پر اس کو ابدی طور پر نہیں رہنا ہے، موجودہ سیارہ زمین اس کی عارضی قیام گاہ ہے۔ اسی عارضی مدت کے خاتمے کے دن کا نام قیامت (Doomsday) ہے۔ سیارہ زمین پر خدا نے وہ تمام اسباب اکٹھا کیے جو مذکورہ تخلیقی پلان کے مقصد کی نسبت سے ضروری تھے۔ ان اسباب کی حیثیت وہی ہے جو امتحان ہال (examination hall) میں موجود سامان کی ہوتی ہے۔ یہ سامان، امتحان کی ضرورت کے تحت، امتحان ہال میں اکٹھا کیے جاتے ہیں۔ امتحان کے ختم ہوتے ہی ان کی مطلوبیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ طالب علم کو یہ اسباب صرف امتحان کے سامان کے طور پر دیے جاتے ہیں، نہ کہ ذاتی انعام کے طور پر۔ اس لیے امتحان
‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues