Al-Risala · September 2008 · page 26

Nadal on the threshold of a landslide victory.

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۶

کے ختم ہوتے ہی طالب علم سے یہ تمام اسباب چھن جاتے ہیں۔

اس معاملے میں خدا کے تخلیقی پلان کا ایک اور پہلو وہ ہے جو قرآن کی سورہ نمبر 8 میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ليهلک من هلک عن بینة ويحيى من حيّ عن بينة (الأنفال: 42) یعنی جس کو ہلاک ہونا ہے، وہ حجت کے ساتھ ہلاک ہو اور جس کو زندہ رہنا ہے، وہ حجت کے ساتھ زندہ رہے۔ اس قانون الہی کا ایک پہلو وہ ہے جو قیامت سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قیامت جب آئے گی تو وہ براہ راست خدائی فیصلے کے تحت آئے گی، لیکن انسانی معاملات میں خدا اپنا فیصلہ پر اسرار بنیاد پر نہیں کرتا، بلکہ اس طرح کرتا ہے کہ وہ لوگوں کو پوری طرح معقول اور جائز (justified) معلوم ہو۔ حالات بتاتے ہیں کہ، قرآن کے الفاظ میں، آنے والی گھڑی بالکل قریب آچکی ہے، اور کوئی اس کو ٹالنے والا نہیں (النجم: 58-53)۔

اس معاملے کی پہلی علامت وہ تھی جس کو پری فائنل وارنگ (pre-final warning) کہا جا سکتا ہے۔ یہ واقعہ 1991 میں کمیونسٹ ایمپائر کے ٹوٹنے کی صورت میں پیش آیا۔ جیسا کہ معلوم ہے، 1917 میں سوویت روس قائم ہوا۔ اس کے بعد ایسے حالات پیش آئے کہ اس کو غیر معمولی توسیع و ترقی ہوئی۔ یہاں تک کہ 1957 میں سوویت روس نے پہلا راکٹ (Sputnik) خلا میں بھیجا، تو اس کو عالمی سپر پاور کی حیثیت حاصل ہوگئی۔

لیکن سوویت یونین، یا کمیونسٹ ایمپائر کی آڈیالوجی میں آغاز ہی سے ایک ایسی چیز شامل تھی جو خدا کے تخلیقی پلان کے خلاف تھی۔ خدا نے اپنے تخلیقی پلان کے مطابق، انسان کو لازمی طور پر آزادی انتخاب (freedom of choice) عطا کیا ہے۔ کیوں کہ آزادی کے بغیر ٹیسٹ (امتحان) ممکن نہیں۔ لیکن کمیونسٹ ایمپائر نے خود ساختہ نظریے کے تحت، اپنے علاقے میں مذہبی آزادی کا مکمل خاتمہ کر دیا۔ کسی بھی قسم کی مذہبی سرگرمی اس کے اندر خلاف قانون قرار پا گئی ۔ حکومتی سطح پر اینٹی ریلیجس ڈپارٹمنٹ قائم ہوا۔ اس کا کام یہ تھا کہ کمیونسٹ ایمپائر کے اندر وہ ہر قسم کی مذہبی سرگرمی کو کچل کر ختم کر دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues

Printed page