Al-Risala · September 2008 · page 27

لائف سپورٹ سسٹم

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۷

یہ بات واضح طور پر خدا کے تخلیقی پلان کے خلاف تھی، اور اس قسم کی کوئی چیز خدا کے نزدیک قابل قبول نہیں ہو سکتی جو خدا کے تخلیقی پلان کی منسوخی کے ہم معنی ہو۔ چناں چہ سوویت یونین میں ایسے حالات پیدا ہوئے کہ 1991ء میں سوویت یونین کا سیاسی محلِ تاش کے پتوں کی طرح بکھر کر ختم ہو گیا۔ یہ گویا کہ مادی تہذیب کے فائنل خاتمہ سے پہلے دیا جانے والا ایک خدائی انتباہ (divine warning) تھا۔ لیکن اس کے بعد بھی انسان نے اس واقعے سے سبق نہیں لیا۔ اس کے بعد بھی اُس نے ایسی سرگرمیاں جاری رکھیں جو خدا کے تخلیقی پلان سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔

خدا نے اپنے تخلیق پلان کے مطابق، انسان کے لیے دو نہایت اہم چیزوں کا انتظام کیا ہے۔ ان میں سے ایک کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح دوسرے کو مارل سپورٹ سسٹم (moral support system) کہا جا سکتا ہے۔ پچھلے برسوں میں انسان نے ان دونوں فطری نظاموں کو نا قابل تلافی حد تک تباہ کر دیا ہے اور اس طرح اُس نے اس کا جواز (justification) کھو دیا ہے کہ اس کو سیارہ زمین پر مزید باقی رکھا جائے۔ کیوں کہ انسان کو زمین کے فطری نظام کو برقرار رکھتے ہوئے اپنا کام کرنا تھا، اس کو یہ رائٹ نہیں تھا کہ وہ زمین کے فطری نظام کو تباہ کر ڈالے۔

لائف سپورٹ سسٹم

خدا نے جب سیارہ زمین پر انسان کو بسایا، تو یہاں اُس نے وہ تمام مادی سامان مہیا کیے جو انسان جیسی مخلوق کی زندگی اور بقا کے لیے ضروری ہیں۔ مثلاً ہوا، پانی، روشنی اور غذا، وغیرہ۔ موجودہ زمانے میں ان انتظامات کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمین پر انسان کو اس کے خالق نے ایک محدود مدت کے لیے بسایا ہے، اس لیے یہ انتظامات محدود پیمانے پر کیے گیے ہیں۔ ان انتظامات کو لا محدود طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر لائف سپورٹ سسٹم کا انتظام، انسان کی فطری ضرورت (natural need) کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ اب اگر انسان ایسا کرے کہ وہ ہوس پرستانہ تعیش (luxury) کے لیے لامحدود طور پر

‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues

Printed page