لائف سپورٹ سسٹم
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۸
اُن کو استعمال کرنے لگے، تو اس سے فطرت کا نظام غیر متوازن ہو جائے گا اور وہ چیز پیدا ہو جائے گی جس کو قرآن میں فساد (الأعراف : 85) کہا گیا ہے۔
موجودہ زمانے میں عملاً ایسا ہی پیش آیا ہے۔ انسان نے اپنی لامحدود خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے اور تعیشات کا انبار اپنے گرد اکٹھا کرنے کے لیے بڑی بڑی صنعتیں قائم کیں۔ بڑی بڑی موٹر کاریں بنائیں، بے شمار قسم کے کنزیومر گڈس (consumer goods) تیار کیے، ہر چیز کوائز کنڈیشنڈ کرنے کی کوشش کی، ہتھیار کی صنعت (armament industry) کو چلانے کے لیے بڑے بڑے اسلحہ ساز کارخانے قائم کیے، وغیرہ۔ اس قسم کی چیزیں انسان کی ضرورت (need) نہ تھیں، وہ صرف اس کی ہوس (greed) کا تقاضا تھیں۔ اس انتخابی دنیا میں خدا کا نظام ضرورت کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے، نہ کہ ہوس کی بنیاد پر۔ مگر اتباع ہوئی (الكھف : 28) کی وجہ سے یہ توازن ٹوٹ گیا۔ اس طرح انسان، فطرت کے مقرر راستے سے ہٹ گیا۔ اس کا بھیانک نتیجہ ایئر پلوشن، واٹر پلوشن، نوائز پلوشن اور پلاسٹک پلوشن، وغیرہ کی صورت میں نکلا۔
یہی وہ واقعہ ہے جس کو قرآن میں فساد فی الأرض (الأعراف : 85) کہا گیا ہے، یعنی فطرت میں قائم کردہ توازن (balance) کا ٹوٹ جانا۔ موجودہ زمانے میں یہ واقعہ بڑے پیمانے پر پیش آیا ہے۔ قدیم روایتی زمانے میں انسان، فطرت (nature) کو صرف بقدر ضرورت استعمال کرتا تھا۔ اس لیے دنیا میں فطری توازن کا نظام بگڑنے نہیں پایا۔ موجودہ صنعتی تہذیب کے زمانے میں انسان کو جدید طاقتوں پر دست رس حاصل ہوگئی۔ اب اُس نے لامحدود طور پر فطرت (nature) کا استعمال شروع کر دیا۔ اس کے نتیجے میں فطرت کا توازن مختل ہو کر رہ گیا۔
انسان نے جو کارخانے بنائے، اُن میں ایسا ایندھن استعمال ہوتا تھا جس سے وہ سنگین مسئلہ پیدا ہوا جس کو کاربن ایمی্শন (carbon emission) کہا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ساری فضا، مضر گیسوں سے بھر گئی۔ سمندر، خالص پانی کی فراہمی کا ذریعہ تھے، لیکن صنعتی کثافتیں جو ندیوں وغیرہ کے ذریعے بہہ کر سمندر میں پہنچیں، ان کے نتیجے میں یہ ناقابل حل مسئلہ پیدا ہوا کہ سمندروں میں پانی کا
‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues