Al-Risala · September 2008 · page 29

لائف سپورٹ سسٹم

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۹

عظیم ذخیرہ پنچانوے فی صد تک خطرناک طور پر آلودگی کا شکار ہو کر رہ گیا۔ حالات کی شدت کے نتیجے میں صحت بخش کیڑے مکوڑے (insects) روزانہ بہت بڑی تعداد میں مر کرختم ہو رہے ہیں، جن کا کوئی بھی بدل فراہم کرنا انسان کے لیے ممکن نہیں۔

جدید صنعتوں ہی کے نتیجے میں وہ سپر پرابلم پیدا ہوا جس کو گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے۔ تمام دنیا کے سائنس داں متفقہ طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ زمین کے اوپر لائف سپورٹ سسٹم میں جو خطر ناک بگاڑ آیا ہے، وہ ناقابل اصلاح (irreversible) ہے۔ تمام سائنس داں جدید سائنسی مشاہدات کی بنیاد پر یہ وارنگ دے رہے ہیں کہ میں سال کے اندر حالات اتنے زیادہ خراب ہو جائیں گے کہ سیارہ زمین، انسان جیسی کسی مخلوق کے لیے نا قابل رہائش (inhabitable) ہو جائے گا۔

موجودہ سیارہ زمین، انسان کو بقذر ضرورت استعمال کے لیے دیا گیا تھا، لیکن انسان نے تجاوز کر کے زمین کو بقذر تعیش استعمال کرنا چاہا۔ اس کے نتیجے میں انسان نے زمین پر اتنا زیادہ بگاڑ پیدا کر دیا کہ اُس نے زمین پر مزید رہنے کا جواز کھو دیا۔ بظاہر اب آخری طور پر وہ وقت آگیا ہے، جب کہ انسان کو زمین سے بے دخل کر دیا جائے۔ اسی بے دخلی کے دن کا دوسرا نام قیامت ہے۔ مارل سپورٹ سسٹم خدا نے انسان کو فطرت صحیحہ (الروم: 30) پر پیدا کیا۔ اُس نے انسان کے اندر پیدائشی طور پر بُرائی اور بھلائی کی تمیز رکھ دی (الشمس: 8) پھر خدا نے انسان کے اندر ضمیر (conscience) رکھ دیا، جس کو قرآن میں نفس لوّامہ (القیامہ: 2) کہا گیا ہے۔ یہ نفسِ لوامہ، ہر انسان کے لیے ایک داخلی گائڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ہر موقع پر انسان کو صحیح اور غلط کا علم دیتا رہتا ہے۔ یہ پورا نظام جو نفسیات کی سطح پر قائم کیا گیا ہے، وہ گویا کہ انسان کے لیے ایک قسم کا مارل سپورٹ سسٹم (moral support system) ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ زندگی کے ہر مرحلے میں انسان کو درست رویے پر قائم رکھے، وہ انسان کو اخلاقی بگاڑ کی طرف جانے سے روکتا رہے۔ موجودہ زمانے میں انسان نے یہ سنگین جرم کیا کہ اُس نے خدا کے قائم کردہ اس مارل سپورٹ سسٹم کو

‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues

Printed page