Homosexuality: Nature or Nurture
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳۵
آدم کی پیدائش کے بعد سے اب تک پورے سیارہ زمین پر یہی عمل جاری رہا ہے۔ اس دنیا میں انسان کی آباد کاری کا یہی واحد مقصد تھا، اس کے سوا دوسرا کوئی مقصد نہیں جس کے لیے انسان کو اس دنیا میں رہنے اور بسنے کا موقع دیا جائے۔
اب انسان کی تاریخ اکیسویں صدی عیسوی میں پہنچ چکی ہے، اور بظاہر حالات بتاتے ہیں کہ اب یہ مقصد آخری حد تک پورا ہو گیا ہے۔ اب انتخاب کا عمل اپنے نقطہ انتہا (culmination) کو پہنچ چکا ہے۔ اب انتخاب کی اس فہرست میں مزید کسی اضافے کا بظاہر کوئی امکان نہیں۔ موجودہ زمانے میں جب فطرت کے خزانوں کا انکشاف ہوا، تو اس کے بعد یہ ہونا چاہیے تھا کہ انسان اور بھی زیادہ اضافے کے ساتھ خدا کا اعتراف کرے، انسان اور زیادہ خدا پرست بن کر خدا کی انتخابی فہرست میں نمایاں جگہ پائے، مگر نتیجہ برعکس صورت میں نکلا۔ انسان سرکشی کے راستے پر چل پڑا۔ اپنی ذمے داریوں کو ادا کرنے کے بجائے، وہ اپنے لیے خود اسی دنیا میں راحت اور عیش کا محل تعمیر کرنے میں مصروف ہو گیا۔ آج کی دنیا میں لوگوں کی سوچ کیا ہے، اُس کا اگر خلاصہ کیا جائے، تو وہ صرف ایک ہے— آج اور صرف آج (right here, right now) یعنی کل کو نظر انداز کر کے صرف آج میں جینا، اور آج کی دنیا میں خوشی اور راحت کی زندگی حاصل کرنا، کیوں کہ اس کے آگے کچھ اور نہیں۔ یہی آج کی دنیا میں ہر عورت اور مرد کا کلمہ ہے، خواہ اس نے لفظوں میں اس کا اعلان کیا ہو، یا اس نے لفظوں میں اس کا اعلان نہ کیا ہو۔ اس طرح، موجودہ زمانے میں پہلی بار مٹیریل ازم نے نظریاتی طور پر ایک مہرّ میٹریل ازم (ideologically justified materialism) کی صورت اختیار کر لی ہے۔ یہ بلا شبہ بُرائی کا آخری درجہ ہے، اس کے آگے بُرائی کا کوئی اور درجہ نہیں ہو سکتا۔ یہ صورت حال سرا سر خدا کے تخلیقی پلان کے خلاف ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان نے اب اس کا حق کھو دیا ہے کہ اُس کو موجودہ زمین پر مزید بسنے اور آباد رہنے کا موقع دیا جائے۔ مسیح کے الفاظ میں— کسان درانتی اٹھاتا ہے، کیوں کہ کاٹنے کا وقت آن پہنچا۔
بیسویں صدی عیسوی کے رُبع آخر میں خدا کے اس فیصلے کی علامتیں ظاہر ہونا شروع ہوئیں، اور
‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues