NASA warming expert says this is the last chance
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳۶
اکیسویں صدی کے شروع ہوتے ہی ایسے آثار ظاہر ہونے لگے جو یہ بتاتے تھے کہ اب انسان کے لیے بالکل آخری وقت آ پہنچا ہے، اب اُس کو مزید مہلت ملنے والی نہیں۔ جون 2008 میں، جب یہ سطریں لکھی جارہی ہیں، انسانی تاریخ کے خاتمہ کی یہ علامت ایک مسلمہ سائنسی واقعہ کی حیثیت اختیار کرکے روزانہ کی ایک خبر بن چکی ہے۔ آپ ہر دن میڈیا میں اس سے متعلق کوئی نہ کوئی خبر پاسکتے ہیں۔ یہاں اس نوعیت کی ایک تازہ سائنسی خبر درج کی جاتی ہے۔ امریکا کے مشہور سائنسی ادارہ ناسا (NASA) کے ممتاز سائنس داں جیمس ہانسن (James Hansen) نے بیس سال پہلے سائنسی مطالعے کے بعد گلوبل وارمنگ کے سنگین خطرے کا اعلان کیا تھا۔ اب انھوں نے مزید تحقیق کے بعد دوبارہ سائنسی مطالعے کے بعد گلوبل وارمنگ کے سنگین خطرے کا اعلان کیا ہے۔ اب انھوں نے مزید تحقیق کے بعد دوبارہ بتایا ہے کہ حالات اتنے زیادہ خراب ہو چکے ہیں کہ دنیا کے لیے واحد امید یہ ہے کہ ذمے داروں کی طرف سے نہایت سخت قسم کے انقلابی اقدامات کیے جائیں۔ دنیا بہت پہلے، خطرے کی حد کو پار کر چکی ہے۔ ضرورت ہے کہ مضر گیسوں کو 1988 کی حد پر دوبارہ واپس لے جایا جائے۔ زمین کی فضا میں انسانی ساخت کے کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ اگر مزید بیس سال تک یہ جاری رہے، تو سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔ انسان کا وجود ہی سرے سے مٹ جائے گا۔ یہ ہمارے لیے بالکل آخری موقع ہے:
NASA warming expert says this is the last chance
Washington: Exactly 20 years after warning America about global warming, a top NASA scientist said the situation has gotten so bad that the world’s only hope is drastic action. James Hansen told Congress that the world has long passed the “dangerous level” for greenhouse gases in the atmosphere and needs to get back to 1988 levels. He said Earth’s atmosphere can only stay this loaded with man-made carbon dioxide for a couple more decades without changes such as mass extinction, ecosystem collapse and dramatic sea level rises. “We’re toast if we don’t go on a very different path,” Hansen, director of the Goddard Institute of Space Sciences
‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues