بہتر مستقبل کی طرف
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۴۱
بہتر مستقبل کی طرف
ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان کا واقعہ ہے۔ انہوں نے ایک یونی ورسٹی سے فرسٹ کلاس کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد اُن کو ایک اچھا جاب (job) ملا۔ وہ اس جاب پر خوش تھے، لیکن کچھ عرصے بعد اپنے باس (boss) سے ان کا اختلاف ہو گیا۔ اختلاف زیادہ بڑھا، یہاں تک کہ ان کو اپنا جاب چھوڑنا پڑا۔ اس کے بعد اُن سے میری ملاقات ہوئی۔ وہ بہت زیادہ مایوس اور پریشان تھے۔ میں نے اُن کو سمجھایا اور پھر اُن کی ڈائری پر یہ الفاظ لکھ دیے:
”کبھی مالی باغ کے ایک درخت کو اکھاڑتا ہے، صرف اس لیے تاکہ وہ اُس درخت کو دوسرے زیادہ بہتر مقام پر لگادے، جہاں وہ زیادہ بہتر طور پر پھل پھول سکے“(4 اکتوبر 1981)۔ اس مشورے کے بعد انھوں نے اپنی جدوجہد جاری رکھی، یہاں تک کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ کامیاب ہو گئے۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ یہ قانون خاموش زبان میں ہر چوبیس گھنٹے کے اندر انسان کو بتایا جاتا ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ ہماری دنیا میں ہر شام کے بعد دوبارہ صبح ہوتی ہے۔ ہر رات کے بعد دوبارہ دن کا اُجالا ہر طرف پھیل جاتا ہے۔ یہ فطرت کی خاموش زبان ہے۔ اس طرح، فطرت انسان کو بتاتی ہے کہ اس دنیا میں ناکامی ہمیشہ ایک عارضی واقعہ ہوتا ہے۔ اس دنیا میں ہر ناکامی کے بعد دوبارہ کامیابی آتی ہے، بشرط صرف یہ ہے کہ آدمی صبر کے ساتھ اُس کا انتظار کرے۔
انتظار کا مطلب بے عملی نہیں ہے۔ انتظار کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی جدوجہد کو مسلسل طور پر جاری رکھے۔ وہ ہر ناکامی کو وقتی چیز سمجھے، اور مستقبل کے بارے میں اپنی امید کو کبھی ختم نہ ہونے دے۔ وہ پیچھے کی باتوں کو بھلائے، اور ہمیشہ آگے کی طرف بڑھتا رہے۔ وہ جذباتی اقدام سے اپنے آپ کو بچائے، اور مبنی بر حقیقت منصوبہ بندی کا طریقہ اختیار کرے۔ زندگی میں ہمیشہ یہ ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی تجربات کی روشنی میں اپنے معاملے کا پھر سے اندازہ (re-assessment) کرے، وہ ازسرِ نو غور کر کے اپنے عمل کا نیا منصوبہ بنائے۔ یہی بہتر مستقبل کی طرف سفر کا واحد کارگر اصول ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues