Al-Risala · September 2008 · page 42

بہتر مستقبل کی طرف

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۴۲

سوال و جواب سوال میں ماہ نامہ الرسالہ کا مستقل قاری ہوں۔ آپ کبھی کبھی ایسا کرتے ہیں کہ قرآن کی کوئی آیت نقل کرتے ہیں۔ اس آیت کے ساتھ سورہ کا نام اور آیت کا نمبر موجود ہوتا ہے، لیکن اس کا ترجمہ موجود نہیں ہوتا۔ میں عربی زبان نہیں جانتا، اس لیے مجھ کو اس کا مطلب سمجھنے میں دقت پیش آتی ہے۔ اگر آپ آیت کے ساتھ ساتھ اس کا ترجمہ بھی لکھ دیں، تو ہمارے جیسے لوگوں کے لیے بہت اچھا ہوگا (ایک قاری الرسالہ، بہار)۔

جواب

عام طور پر الرساله میں آیت کا ترجمہ دیا جاتا ہے، مگر کبھی کبھی ترجمہ موجود نہیں ہوتا۔ ایسا بالقصد کیا جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ الرسالہ کے قاری براہ راست طور پر قرآن سے مربوط ہوں۔ آپ جانتے ہیں کہ اس زمانے میں چھپا ہوا بترجمہ قرآن ہر گھر میں موجود رہتا ہے۔ اور اگر بالفرض کسی کے گھر میں با ترجمہ قرآن موجود نہ ہو تو اس کو پہلی فرصت میں با ترجمہ قرآن حاصل کر کے اپنے گھر میں رکھنا چاہیے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ جب بھی الرسالہ کا قاری ایسی کسی آیت کو الرسالہ میں پڑھے تو وہ قرآن کھول کر حوالہ کے ذریعے مذکورہ آیت نکالے اور اس کو پڑھ کر اس آیت کا ترجمہ معلوم کرے۔ اس طرح اُس کے مطالعہ کا تاثر بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔

قرآن کی حیثیت زندگی کے معاملات میں ایک ریفرنس بک (reference book) کی ہے۔ پرنٹنگ پریس سے پہلے ایسا ہوتا تھا کہ اکثر مسلمان قرآن کے حافظ ہوتے تھے۔ جب بھی کوئی معاملہ پیش آتا، تو وہ اپنے حافظے کی مدد سے قرآن کی اس آیت تک پہنچ جاتے اور اُس سے اپنے لیے رہنمائی حاصل کرتے۔ اب پرنٹنگ پریس کا زمانہ ہے اور با ترجمہ قرآن کے نسخے چھپے ہوئے ہر گھر میں موجود ہیں۔ اور بالفرض اگر کسی کے گھر میں با ترجمہ قرآن موجود نہ ہو تو بہت آسانی کے ساتھ وہ اس کو قریبی مارکیٹ سے حاصل کر سکتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ الرسالہ کا ہر قاری قرآن کو اپنے لیے ایک

‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues

Printed page