Al-Risala · September 2008 · page 43

بہتر مستقبل کی طرف

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۴۳

ریفرنس بک بنالے۔ جب بھی قرآن کی کوئی آیت اس کے سامنے آئے تو خواہ وہاں اس کا ترجمہ موجود ہو یا موجود نہ ہو، ہر حال میں وہ اس آیت کو اپنے یا ترجمہ قرآن میں براہ راست دیکھے۔ اس طرح اس کا تعلق قرآن سے بڑھے گا اور اس کے یقین میں اضافہ ہوگا۔

آپ جانتے ہیں کہ الرسالہ محض ایک ماہ نامہ پر چہ نہیں، وہ ایک دینی تحریک ہے۔ الرسالہ کا مقصد یہ ہے کہ قرآنی خطوط پر لوگوں کی ذہنی تربیت کی جائے۔ یہ مقصد اس وقت پورا ہوتا ہے جب کہ آپ الرسالہ کو قرآن سے ملا کر پڑھیں۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ ہمارے یہاں کی چھپی ہوئی تفسیر تذکیر القرآن کا ایک نسخہ اپنے پاس رکھیں۔ آپ تذکیر القرآن کا مطالعہ الگ سے بھی کریں اور الرسالہ کو پڑھتے ہوئے بھی جہاں کوئی آیت آئے تو اس کو کبھی تذکیر القرآن سے ملا کر دیکھیں۔ اس طرح آپ کے مطالعہ کی دینی افادیت بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔

الرسالہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ وقت گزاری کے طور پر اس کو پڑھ لیا جائے۔ الرسالہ ایک تحریک ہے۔ الرسالہ کی اس تحریکِی نوعیت کا تقاضا ہے کہ اس کو باقاعدہ اور منظم مطالعے کے انداز میں پڑھا جائے۔ الرسالہ کے مطالعے کو مکمل ذہنی سرگرمی کا ذریعہ بنا دیا جائے۔

مجھے کئی بار یہ تجربہ ہوا ہے کہ ایک شخص مجھ سے مل جاتے۔ وہ چند گھنٹے میرے ساتھ گزارے گا، پھر جاتے ہوئے وہ کہے گا کہ میں برسوں سے ماہ نامہ الرسالہ اور آپ کی کتابیں پڑھ رہا تھا اور اس سے متاثر تھا، لیکن چند گھنٹہ آپ کی صحبت میں بیٹھنے سے جو فائدہ ہوا، وہ برسوں تک الرسالہ اور کتابیں پڑھنے سے نہیں ہوا تھا۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اکثر لوگ ماہ نامہ الرسالہ کو صرف انٹرسٹ ریڈنگ (interest reading) کے لیے پڑھتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس طرح ہوتا ہے کہ جب اُن سے پوچھا جائے کہ آپ الرسالہ کیوں پڑھتے ہیں، تو وہ کہیں گے کہ اُس میں نئی نئی معلومات ہوتی ہیں۔ اس کا اسلوب منفرد ہے۔ اس میں چھوٹے چھوٹے واقعات سے بڑے بڑے نتائج نکالے جاتے ہیں، وغیرہ۔ جو لوگ اس قسم کی بات کہتے ہیں، وہ ابھی تک صحیح معنوں میں الرسالہ کے قاری نہیں بنے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو صحبت سے جو چیز ملتی ہے، وہ ان کو الرسالہ کے مطالعے سے نہیں ملتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues

Printed page