Al-Risala · September 2008 · page 44

بہتر مستقبل کی طرف

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۴۴

الرسالہ کے مطالعے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کو کئی بار پڑھا جائے۔ اگر ممکن ہو تو اس کے حوالوں کو دوبارہ اصل کتاب میں دیکھا جائے۔ الرسالہ کے مضامین علمی انداز میں باہم مذاکرہ کیا جائے۔ مزید غور و فکر کے ذریعے سطور کے درمیان اس کے بین السطور کو جاننے کی کوشش کی جائے۔ جو لوگ اس طرح الرسالہ کا مطالعہ کریں، ان کے لیے الرسالہ کا مطالعہ، ایک زندہ مطالعہ بن جائے گا۔ جو چیز انھوں نے ’’صحبت‘‘ کے ذریعے پائی تھی، وہ اس کو الرسالہ کے مطالعے کے دوران پالیں گے۔ سوال میرے پاس 1986 سے الرسالہ کی ایجنسی ہے۔ میں الرسالہ مشن کا ایک خادم ہوں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے الرسالہ کا ہدیہ نہیں بڑھ رہا ہے، جب کہ کا غذ روز بروز اونچی کوالٹی میں آرہا ہے، پھر طلبا اور ٹیچر وغیرہ کو سالانہ 50 روپے میں الرسالہ کس طرح دے رہے ہیں۔ اسی طرح مطبوعات الرسالہ، لائبریریوں اور مساجد کے لیے 50 فی صد سے زائد کمیشن پر کس طرح سے دے رہے ہیں۔ یہاں بعض لوگ اس سلسلے میں طرح طرح کے اشکالات اٹھا رہے ہیں (ایک قاری الرسالہ، مہاراشٹر)۔

جواب

جو سوال آپ نے نقل کیا ہے، وہ کوئی سوال نہیں ۔ یہ صرف غیر سنجیدہ ذہن سے نکلی ہوئی ایک بات ہے۔ الرسالہ کی قیمت کم کرنے کے بجائے، اگر ایسا کیا جاتا کہ اس کا زِیر تعاون بڑھا دیا جاتا، تب بھی غیر سنجیدہ لوگ چپ نہیں ہو سکتے تھے۔ اب وہ کہتے کہ دیکھو، الرسالہ والے دین کو تجارت بنا رہے ہیں۔ انھوں نے دیکھا کہ الرسالہ، لوگوں میں بہت مقبول ہو رہا ہے تو انھوں نے اس کا زیر تعاون بڑھا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک غیر سنجیدہ انسان کو کسی بھی دلیل سے چپ نہیں کیا جا سکتا۔ ہر دلیل کے بعد وہ کچھ ایسے الفاظ پالے گا جس کو بول کر وہ بطور خود مطمئن ہو جائے، اور سچائی کا اعتراف نہ کرے۔ ایسے لوگوں سے الجھنے کے بجائے، ان سے اعراض کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues

Printed page