Al-Risala · September 2008 · page 46

بہتر مستقبل کی طرف

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۴۶

5- یکم جولائی 2008 کو نئی دہلی کے فوکس ٹی وی (Focus TV) کی ٹیم نے صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو کار نام روچیا گوش تھا ۔ ان کے سوالات کے دوران اُنھیں پردہ کے بارے میں اسلام کی تعلیمات بتائی گئیں۔ انٹرویو کے آخر میں ان کو کچھ اسلامی پمفلٹ مطالعے کے لیے دیے گئے۔

6- برادر محترم مولانامحمد ذکوان ندوی السلام علیکم ورحمۃ اللہ 5 مئی 2008 کو میرا دہلی کا سفر ہوا تھا اور آپ کی معرفت مولا نا وحید الدین خاں صاحب سے ملاقات اور گفت وشنید کا موقع نصیب ہوا تھا۔ یوں تو میں الرسالہ کا قدیم قاری ہوں۔ مولانا کی تحریر سے میں نے اندازہ کر لیا تھا کہ ان کے مزاج میں تواضع اور انکساری کا جذبہ موجود ہوگا، مگر مولانا سے ملنے کے بعد میرے اس احساس میں حد درجہ اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ چیز جب میں نے جامعہ اسلامیہ عبداللہ پور کے سابق پرنسپل مولانا منظور الرحمن قاسمی (90 سال) سے بیان کی تو وہ رو پڑے اور فرمایا کہ یہی وجہ ہے کہ مولانا کی تحریروں میں جو تاثیر اور فکر آخرت پائی جاتی ہے، وہ کسی اور کی تحریر میں موجود نہیں ہے۔ میرا یہ دعویٰ ہے کہ جو شخص سنجیدگی کے ساتھ مولانا کی صحبت میں کچھ وقت گزار لے گا، اور مولانا کے اخلاق کریمانہ اور ان کے رہن سہن کا مشاہدہ کرلے گا، وہ اُن سے متاثر ہوئے بغیر نہیں سکتا (حبیب اللہ قاسمی، جھارکھنڈ، 20 جون 2008)۔

7- قابل احترام مولا نا وحید الدین خاں صاحب السلام علیکم سی پی ایس انٹرنیشنل کے ہفتہ وار اسپرچول کلاس میں شرکت کرنے کے بعد آج میں آپ کو پہلی دفعہ یہ خط لکھ رہا ہوں۔ کلاس میں اس ایک سالہ شرکت کے دوران میرا زبر دست ذہنی ارتقاء ہوا ہے۔ میں نے آپ کتا بیں بھی خوب پڑھیں تھیں اور میں الرسالہ مشن سے بھی صدفی صداق رکھتا تھا، لیکن جب حالات آتے تھے تو پھر میں ان کی رو میں بہہ جاتا تھا۔ اپنا ایمان ویقین کھو بیٹھتا تھا۔ مگر جب میں آپ کی کلاس میں شریک ہونے لگا، تو میرے ایمان ویقین میں زبر دست تبدیلی آگئی اور میرے اندر سے مادیت کا مزاج پوری طرح نکل گیا اور اب میں مطمئن زندگی گزارنے لگا ہوں۔ مولانا صاحب ، میں آپ کی تربیت میں رہنے سے قبل آپ کی عظمت میں جیتا تھا، لیکن آپ سے ملنے، آپ کا مشاہدہ کرنے اور آپ کے ساتھ مسلسل وقت گزارنے کے بعد اب میں خدا کی عظمت میں جینے لگا ہوں ۔ میرے دینی جذبات میں ترقی ہونے لگی ہے۔ ہر واقعہ پر مجھے خدا نظر آنے لگا ہے۔ بی ایڈ کے ایک سالہ کورس کے دوران میرے اوپر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ شروع کے دنوں میں تو لگتا ہی نہیں تھا کہ میرا وقت گزرے گا، لیکن میں نے جب خدا کا دامن تھام لیا تو میرا وقت اس طرح گزر گیا کہ مجھے کچھ پتہ ہی نہیں چلا۔ حسن اتفاق سے زندگی میں پہلی دفعہ مجھے اسم اعظم کے ساتھ دعا کرنے کا موقع اسی بی ایڈ کے زمانے میں ملا۔ خدا نے میری میدان جگہوں سے کی، جہاں میرا وہم و گمان بھی نہ گیا تھا۔ اب میں اپنے رب پر پختہ یقین کرنے لگا ہوں۔ اور پوری طرح مطمئن ہوں۔ جب بھی کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے، ذہن میں یہ احساس ابھرتا ہے کہ خدا مجھے کیسے بے یار و مددگار چھوڑ دے گا، میں اس کا بندہ ہوں، وہ میرا خدا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues

Printed page