بہتر مستقبل کی طرف
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۴۷
مولانا محترم! میں نے آپ کے لٹریچر کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ کے تئیں جو تصورات قائم تھے، آپ اس سے بہت بلند نظر آئے۔ میں ہندوستان کے بڑے بڑے مذہبی رہنماؤں اور قائدینِ ملت سے ملا ہوں اور ان کی ذاتی زندگی میں جھانک کر بھی دیکھا ہے۔ مجھے آپ کے علاوہ، یہ لوگ تضاد بھری زندگی گزارتے ہوئے نظر آئے۔ ہر ایک کی پرسنل لائف اور اسٹیج کی لائف الگ الگ نظر آئی، جب کہ آپ کی دونوں لائف کا بہت قریب سے مشاہدہ کرنے کے بعد دونوں کے درمیان مجھے کوئی فرق محسوس نہیں ہوا۔ آپ وہی کرتے ہیں جو آپ کہتے ہیں۔ آپ کے کرنے اور کہنے میں کوئی فرق میں نے نہیں دیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ 4 اکتوبر 2007 کو میں نے اپنے والد صاحب کو خط لکھتے وقت آپ کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا تھا کہ مولاناحید الدین خاں صاحب کے متعلق میں نے جو تصور اپنے ذہن میں بنایا تھا، مولانا صاحب اس سے کہیں زیادہ بلند نظر آئے۔ جو مولانا سے ملتا ہے، وہ خوش ہو جاتا ہے۔ ان کی مجلس میں لوگوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ ہر ایک یہ محسوس کرتا ہے کہ میں مولانا سے بہت قریب ہوں۔ مولانا ہر ایک سے یکساں انداز میں ملتے ہیں۔ بڑے سے بھی وہ اسی انداز میں ملتے ہیں جس طرح چھوٹے سے ملتے ہیں۔ مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں ہو رہی ہے کہ آپ صرف اور صرف اسلام کی بات پیش کرتے ہیں، جب کہ بقیہ لوگ اسلام کی نہیں، بلکہ مسلمانوں کی بات کرتے ہیں۔ اس لیے ان کے یہاں خدا کا چرچا کرنے سے کسی کو خوشی نہیں ہوتی ہے۔ جو لوگ خدا کے چرچے سے خوش نہ ہوں، وہ خدا کے بندے نہیں، وہ خدا کے مجرم ہیں۔ کاش وہ لوگ بھی اس بات پر غور کرتے جو سطحی لیڈری کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے ہوئے ہیں۔ مولانا محترم! میں نے اسلام کو پہلے وراثت میں پایا تھا، آپ کی کتابوں کو پڑھ کر میں نے اسلام کو شعور کی سطح پر دریافت کیا ہے۔ بلاشبہ مولانا صاحب، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اسلام کو جس طرح اس کی روح کی بلند سطح سے پایا، وہ کہیں بھی نظر نہیں آتی۔ اسلام کو نہ پانے کی وجہ سے کچھ لوگ آپ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر وہ کامیاب ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے، جس طرح آپ ہر سطح پر کامیابی سے ہم کنار ہو رہے ہیں۔ آپ نے جو سچائی خود دریافت کی تھی، اس سے دنیا والوں کو آگاہ کر دیا۔ بخدا، میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ اے داعئ حق، تو نے حق تبلیغ ادا کر دیا۔ خدا آپ کو ضرور اجر عظیم عنایت کرے گا۔ میں اس دعا کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں کہ میں نے جس ربانی مشن کو شعور کی سطح پر دریافت کیا ہے، اس پر خدا مجھے ثابت قدم رکھے (آمین)۔ نئی دہلی، 26 جون، 2008 8- Please let me present myself. My name is Maya Safira Muchtar, an indegenious Moslem from Indonesia (in Indonesia, Maya can also be a name for Moslems). It is my very honor to be in contact with you. I am a great admirer of your work. I was actually brought up in New Delhi during my childhood unto my teenage life. My father was the Regional Director for South East Asia of World Health Organization based in New Delhi. It is to my deepest regret that I have only discovered about you in my adult life when I have returned to Indonesia. I happened to be in Delhi last month and was in
‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues