Al-Risala · October 2008 · page 16

رمضان میں خطاؤں کی معافی

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۱۶

رمضان میں خطاؤں کی معافی

حضرت ابوسعید الخدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ صَامَ رمضان وعَرَّفَ حدودَهُ، وتحَفَّظَ مما كان ينبغي له أن يتحفّظ منه، كَفَّر ما قبله (مسنداحمد، جلد 3، صفحہ (55) یعنی جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے اور اُس کی حدود کو پہچانا، اور جن چیزوں سے بچنا ضروری تھا، اُس نے روزے میں اُن چیزوں سے اپنے آپ کو بچایا، تو ایسا روزہ اس کے لیے اس کی خطاؤں کی معافی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

رمضان کا مہینہ دراصل محاسبہ (introspection) کا مہینہ ہے۔ سچا روزہ، آدمی کے اندر محاسبہ کی نفسیات کو جگاتا ہے۔ وہ اپنے ماضی اور اپنے حال کا جائزہ لینے لگتا ہے۔ روزہ آدمی کے اندر مزید اضافے کے ساتھ یہ احساس بیدار کرتا ہے کہ وہ مرنے والا ہے اور مرنے کے بعد وہ خدا کے سامنے کھڑا ہونے والا ہے۔ اس احساس کے تحت، وہ چاہنے لگتا ہے کہ وہ قیامت کی عدالت میں پیش ہونے سے پہلے اپنا حساب کرلے، تاکہ وہ آخرت میں خدا کی پکڑ سے بچ جائے۔

رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنا، بلاشبہہ آدمی کی خطاؤں کی معافی کا ذریعہ ہے، مگر خطاؤں کی یہ معافی پُر اسرار طور پر خود بخود نہیں ہوتی، یہ اُس شعوری عمل کے ذریعے ہوتی ہے جس کو شریعت میں محاسبہ کہا گیا ہے۔ روزہ آدمی کے اندر شدت کے ساتھ محاسبہ کی نفسیات جگاتا ہے۔ آدمی ایک ایک کر کے اپنی خطاؤں کو یاد کرتا ہے اور اپنی تنہائیوں میں اُس پر وہ خدا سے معافی کی دعائیں کرتا ہے۔ یہ احساس اُس پر اتنی شدت کے ساتھ طاری ہوتا ہے کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔ دراصل روزے دار کے یہی آنسو ہیں جو خدا کی رحمت کے تحت، اُس کی خطاؤں کو دھو دیتے ہیں۔ مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خطاؤں کی معافی، کیفیات سے بھرے ہوئے روزے کا نتیجہ ہوتی ہے، نہ کہ سالانہ رسم کے طور پر بے روح روزے داری کا نتیجہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues

Printed page