Al-Risala · October 2008 · page 17

اسپرٹ، نہ کہ فارم

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۱۷

اسپرٹ، نہ کہ فارم

حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاء ثلاثة رهط إلى بيوت أزواج النبي صلى الله عليه وسلم يسألون عن عبادة النبي صلى الله عليه وسلم، فلما أخبروا كأنهم تقالوها. فقالوا: وأين نحن من النبي صلى الله عليه وسلم، قد غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر. قال أحدهم: أما أنا، فأصلي الليل أبداً، وقال اخر: أنا أصوم الدهر ولا أفطر، وقال اخر: أنا أعتزل النساء فلا أتزوج أبداً، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أنتم الذين قلتم كذا وكذا، أما والله إني لأخشاكم لله وأتقاكم له، لكنّى أصوم وأفطر، وأصلي وأرقد، وأتزوج النساء، فمن رغب عن سنتي فليس مني (صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب: الترغیب فی النکاح)۔

یعنی صحابہ میں سے تین شخص ازواجِ رسول کے گھر پر آئے۔ انھوں نے آپ کی ازواج سے آپ کی عبادت کے بارے میں پوچھا۔ جب اُن کو آپ کی عبادت کے بارے میں بتایا گیا، تو گویا کہ انھوں نے اس کو کم سمجھا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا مقابلہ، اللہ نے آپ کی اگلی اور پچھلی خطاؤں کو بخش دیا ہے۔ اُن میں سے ایک نے کہا: میں تو اپنی رات کو ہمیشہ نماز پڑھنے میں گزاروں گا۔ دوسرے نے کہا: میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا۔ اور تیسرے نے کہا: میں ہمیشہ عورتوں سے دور رہوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ اِسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگئے۔ آپ نے فرمایا: کیا تمھیں لوگوں نے ایسا اور ایسا کہا ہے۔ میں، خدا کی قسم، تم میں سب سے زیادہ خدا سے ڈرتا ہوں اور تم میں سب سے زیادہ خدا کا تقویٰ رکھنے والا ہوں، لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور روزہ نہیں بھی رکھتا، اور میں قیام لیل بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ پس جو میری سنت سے اعراض کرے، وہ مجھ سے نہیں۔

اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کا تعلق کیفیت سے ہے، نہ کہ کمیت سے۔ یہی معاملہ روزے کا ہے۔ اللہ کے نزدیک اصل اہمیت روزے کی اسپرٹ کی ہے، نہ کہ اس کے ظاہری فارم کی۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues

Printed page