Al-Risala · October 2008 · page 18

رحمتِ الہی کا مستحق کون

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۸، صفحہ ۱۸

رحمتِ الہی کا مستحق کون

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا دخل شهر رمضان فُتحت أبواب السماء۔ وفي رواية: فُتحت أبواب الجنّۃ، وغُلّقت أبواب جہنّم، وسُلسلت الشياطين۔ وفي رواية: فُتحت أبواب الرحمة (صحیح البخاري، کتاب الصّوم، باب: هل يُقال رمضان) یعنی جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ اور دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔

اس حدیث میں جنت اور جہنم، یا شیاطین کی نسبت سے جو بات کہی گئی ہے، وہ دراصل تمثیل کی زبان (symbolic language) میں ہے۔ کلام کا اصل مقصود وہی ہے جس کو ”فُتحت أبواب الرحمۃ“ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی رحمت کے دروازوں کا کھل جانا، یا رحمتِ خداوندی کے حصول کے مواقع میں اضافہ ہو جانا۔

رمضان کے مہینے کے یہ فوائد جو اس حدیث میں بیان کیے گئے ہیں، وہ پُر اسرار طور پر خود بخود مل جانے والے فوائد نہیں ہیں، بلکہ وہ پوری طرح معلوم فوائد ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کے مہینے میں اگر اس کی مطلوب اسپرٹ کے ساتھ روزہ رکھا جائے، تو ایسا روزہ آدمی کے لیے اُن فوائد کے حصول کا سبب بن جاتا ہے، جن کا ذکر مذکورہ حدیث میں کیا گیا، یعنی روزے دار کے اندر اِن صفات کا پیدا ہونا جو اس کو خدا کی رحمت کا مستحق بنا دیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ صرف فارم کے اعتبار سے روزہ رکھیں، اُن کا روزہ اِس حدیثِ رسول کا مصداق ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ کچھ روزے دار وہ ہیں جن کو اپنے روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ اور نہیں ملتا (کم من صائم ليس له من صيامه إلا الجوع والعطش۔ النسائی، ابن ماجه)۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2008 All issues

Printed page