زیادہ ذہین، زیادہ دُور
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳۷
زیادہ ذہین، زیادہ دُور
انسانوں میں فطری طور پر کچھ لوگ زیادہ ذہین ہوتے ہیں اور کچھ لوگ کم ذہین۔ پوری تاریخ کا یہ تجربہ ہے کہ زیادہ ذہین لوگوں میں بہت کم ایسے افراد ہوتے ہیں جو خدا کے دین کی طرف راغب ہوں۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ ہر زمانے میں صرف کم تر ذہانت کے لوگ اپنے آپ کو دینی کام میں لگاتے ہیں۔ زیادہ ذہانت رکھنے والے لوگوں میں بہت کم ایسے افراد نکلے جو اپنی صلاحیتوں کو حقیقی معنوں میں، خدا کے دین کے لیے وقف کر سکیں۔
ایسا کیوں ہے، اس کا سبب وہی ہے جس کو قرآن میں حبّ عاجلہ (القیامة: 20) کہا گیا ہے، یعنی فوری فائدہ (immediate gain) کی کشش۔ زیادہ ذہین لوگ جلد منی مارکیٹ (money market) میں اپنے لیے ایک نفع بخش جاب (job) پا لیتے ہیں، جب کہ دینی کام کا فائدہ آخرت سے جڑا ہوا ہے۔ منی مارکیٹ میں ان کو فورا دولت اور شہرت اور اقتدار ملتا ہوا نظر آتا ہے، جب کہ دینی کام میں اُنھیں محسوس ہوتا ہے کہ اپنے عمل کا انعام پانے کے لیے اُنھیں موت کے بعد آنے والی دنیا کا انتظار کرنا پڑے گا۔ تاریخ کے اس تجربے کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جو شخص زیادہ ذہین ہوتا ہے، وہ عملی طور پر اتنا ہی زیادہ نادان ثابت ہوتا ہے۔ ایسے افراد وقتی فائدے کی خاطر، ابدی فائدے کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ وہ دنیا کی جھوٹی خوشی کے بدلے، جنت کی سچی خوشی سے خود کو محروم کر لیتے ہیں۔ زیادہ ذہین آدمی کی ایک کم زوری یہ ہے کہ وہ انانیت پسند (egoist) ہوتا ہے اور دینی کام میں انانیت پسندی کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ دینی کام ہمیشہ تواضع (modesty) کی بنیاد پر ہوتا ہے، نہ کہ فخر اور برتری کی بنیاد پر۔ زیادہ ذہین لوگ اپنی انا کو کچل نہیں پاتے، اس لیے وہ دینی کام سے اپنے آپ کو ہم آہنگ نہیں کر پاتے۔ دینی کام دراصل، خدائی کام ہے۔ دینی کام وہی لوگ کر سکتے ہیں جو خدا کے مقابلے میں اپنے آپ کو پوری طرح سرینڈر کیے ہوئے ہوں۔ اس مزاج میںادنی کمی بھی کسی آدمی کو دینی کام کے لیے نااہل (incompetent) بنا دیتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2008 All issues