ماضی میں جینا
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳۸
ماضی میں جینا
لوگوں سے بات کیجیے تو اکثر لوگ، بلکہ شاید سبھی لوگ کسی نہ کسی کے خلاف کوئی شکایت لے کر منفی احساسات میں مبتلا رہتے ہیں۔ پورے معنوں میں مثبت سوچ (positive thinking) والا آدمی شاید کوئی بھی آج کی دنیا میں موجود نہیں۔
اس قسم کی سوچ آدمی کے اندر منفی شخصیت (negative personality) پیدا کرتی ہے۔ اور منفی شخصیت کسی بھی عورت یا مرد کے لیے خودکشی سے کم نہیں۔ عام خودکشی اگر جسمانی خودکشی (physical suicide) ہے، تو منفی سوچ بلاشبہ نفسیاتی خودکشی (psychological suicide) ہے۔ اس معاملے میں لوگوں سے پوچھ گچھ (scrutiny) کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ان کی شکایت کسی نہ کسی ایسے واقعے پر مبنی ہے جس کا تعلق گزرے ہوئے ماضی سے ہے۔ لوگوں کی یہ ایک تباہ کن عادت ہے کہ اگر اُن کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آ جائے، تو وہ دوسروں سے اس کا چرچا کرتے ہیں، وہ ہمیشہ اس کو اپنی یاد (memory) میں لیے رہتے ہیں۔ یہی عادت کسی عورت یا مرد کے اندر منفی شخصیت کی تشکیل کا سب سے بڑا سبب ہے۔
ہر عورت اور ہر مرد کو چاہیے کہ جب بھی اس کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آئے، تو اُسی وقت وہ اس کو فراموشی کے خانے میں ڈال دے۔ وہ ہرگز دوسروں سے اس کا چرچا کرے، بلکہ وہ کوشش کر کے ناخوش گوار واقعہ کے کسی خوش گوار پہلو کو تلاش کرے۔ اس طرح وہ ایک منفی تجربے کو، مثبت تجربے میں تبدیل کر دے، ٹھیک اُسی طرح جیسے ایک مسافر کے پاؤں میںکانٹا چبھ جائے، تو وہ اُسی وقت اس کانٹے کو نکال کر باہر پھینک دیتا ہے۔ وہ اس کو اپنی زندہ یادداشت (living memory) کا جز نہیں بناتا۔
دانش مند انسان وہ ہے جو ماضی کی تلخ یادوں کو بھلا دے۔ وہ اپنے ذہن کو ماضی کی ناخوش گوار یادوں کا جنگل نہ بننے دے۔ اس دنیا میں کامیاب زندگی کی اس کے سوا کوئی اور صورت نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2008 All issues