Al-Risala · November 2008 · page 39

ماضی میں جینا

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳۹

سوال و جواب سوال میں ایک جدید تعلیم یافتہ مسلمان ہوں۔ میں پانچ وقت نماز پڑھتا ہوں اور روزہ بھی رکھتا ہوں، لیکن یہ تراویح جو ہر سال پڑھی جاتی ہے، اس کا کوئی فائدہ میری سمجھ میں نہیں آتا۔ براہِ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں (ایک قاری، الرسالہ، حیدرآباد)

جواب

تراویح کوئی رسم نہیں ہے۔ تراویح دراصل، قرآن کا اجتماعی مطالعہ (collective study) ہے۔ تراویح کا مطلب یہ ہے کہ نماز کی حالت میں کھڑے ہو کر قرآن کو سنا جائے اور اس کا اجتماعی مطالعہ کیا جائے۔ تراویح کی بہترین صورت یہ ہے کہ کسی دن قرآن کا جو حصہ پڑھا جانے والا ہو، تمام نمازی پیشگی طور پر قرآن کے اُس حصے کا ترجمہ پڑھیں اور اس کے مضمون کو اپنے ذہن میں بٹھائیں ۔ اس کے بعد وہ مسجد میں جا کر تراویح پڑھیں۔ اس طرح جب وہ تراویح پڑھیں گے تو وہ قرآن کو سنیں گے بھی اور اُس پر غور بھی کریں گے ۔ یہ اُن کے لیے قرآن کا ایک اجتماعی مطالعہ ہوگا جس سے انھیں غیر معمولی فائدے حاصل ہوں گے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب زیادہ لوگ جمع ہو کر اللہ کا ذکر کریں اور اللہ کا چرچا کریں تو اْس وقت وہاں فرشتے بہت زیادہ تعداد میں آجاتے ہیں۔ فرشتوں کی آمد سے اُس مقام پر ایک روحانی ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔ تراویح، اسی قسم کا ایک اجتماعی ذکر اور اجتماعی مطالعہ قرآن ہے۔ اْس کو اگر صحیح طور پر انجام دیا جائے تو اْس سے غیر معمولی فوائد حاصل ہوں گے۔ سوال میری عمر اس وقت 48 سال ہے۔ میری تعلیم ایک دینی مدرسے میں ہوئی ۔ تعلیمی زندگی میں مدرسے کے اندر کچھ ایسے واقعات پیش آئے کہ میں اس ماحول سے متنفر ہو گیا، نہ صرف اس ماحول سے بلکہ مذہب کے تعلق سے ایسی بیزاری ہوئی کہ روزہ نماز بھی چھوڑ دیا۔ برسوں یہ سلسلہ چلتا رہا پھر ایک دوست کے ذریعے ماہ نامہ الرسالہ سے تعارف ہوا۔ الرسالہ کے مضامین پسند آئے۔ لیکن اس

‹ Previous page Next page › Contents of November 2008 All issues

Printed page