Al-Risala · November 2008 · page 40

1- حافظ صلاح الدین عمر 25 سال

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۸، صفحہ ۴۰

لیے نہیں کہ اس میں معرفت والا دین بتایا گیا ہے، بلکہ اس لیے کہ اس میں ڈھیر ساری معلومات ہوتی ہیں جس کے سہارے مختلف لوگوں سے بحث کی جاسکتی ہے، لیکن کب تک؟ سچائی سر چڑھ کر بولتی ہے۔ الرسالہ کے مضامین نے دھیرے دھیرے متاثر کرنا شروع کر دیا۔ اور میں نے سنجیدگی سے الرسالہ کی باتوں پر غور کرنا شروع کیا۔ میں نے پایا کہ یہ واحد ذریعہ ہے دین کو سمجھنے کا۔ اور خدا کی توفیق سے یہ سمجھ میں آیا کہ اللہ اپنے بندوں سے کیا چاہتا ہے۔

میں آپ کی تحریک (دعوت الی اللہ) سے پوری طرح متفق ہوں اور چاہتا ہوں کہ اس تحریک میں اپنا حصہ ادا کرکے اپنے گناہوں اور کوتاہیوں کا کفارہ ادا کر سکوں۔ گو کہ میں روحانی اعتبار سے خود کو انتہائی کمزور پاتا ہوں۔ میری شدید خواہش ہے کہ کم از کم چالیس 40 دن آپ کے زیر سایہ رہنے کا موقع ملے، تاکہ میری کنڈیشننگ ٹوٹے اور میں اپنی ڈی کنڈیشننگ کرسکوں۔ میری خواہش ہے کہ میں دوبارہ آپ کے ذریعہ کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کروں اور آپ کے زیر سایہ کچھ دن تربیت حاصل کرسکوں۔ میرے ساتھیوں کا مختصر تعارف حسب ذیل ہے:

1- حافظ صلاح الدین عمر 25 سال

انھوں نے تعلیمی فراغت کے بعد پانچ سال تک ایک مسجد میں امامت کی۔ تبلیغی جماعت سے وابستہ رہے، لیکن روایتی شاکلہ (framework) سے مطمئن نہیں تھے۔ آخر انھوں نے سب کچھ چھوڑ دیا۔ اور ایک کارخانے میں مینیجر ہیں۔ الرسالہ مشن سے پوری طرح اتفاق رکھتے ہیں۔ 2- شفیق بھائی (میڈیکل اسٹور کے مالک) الرسالہ سے اتفاق رکھتے ہیں، لیکن بابری مسجد جیسے موضوع پر وہ آپ کے موقف سے مطمئن نہیں۔

3- مسٹر سہراب اعظمی (اعظمی بیکری) یہ سیاسی سرگرمیوں میں زیادہ دل چسپی لیتے ہیں۔ میں نے اُن سے بارہا کہا کہ دین کے کاموں میں آگے آئیں، اللہ آپ کی دنیا و آخرت دونوں کو بہتر کرے گا۔ وہ الرسالہ کو پسند کرتے ہیں لیکن اُن کا اختلاف اس بات پر ہے کہ مولانا ، مسلمانوں کو کی۔ زندگی کی ترغیب دیتے ہیں، جب کہ اس وقت مسلمانوں کو مدنی زندگی کے قیام کی کوشش کرنا چاہیے۔ میں نے اُن کو دلائل

‹ Previous page Next page › Contents of November 2008 All issues

Printed page