Al-Risala · November 2008 · page 41

1- حافظ صلاح الدین عمر 25 سال

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۸، صفحہ ۴۱

سے مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ مکی زندگی کے بغیر مدنی زندگی کا تصور ہی فضول ہے۔ 4- جاوید اکبر صاحب (ریٹائرڈ گورنمنٹ سرونٹ) یہ الرسالہ مشن اور دوسری تحریکوں میں فرق کرنا ہی نہیں جانتے۔ وہ دونوں کو یکساں سمجھتے ہیں۔

5- مولانا مسعود یہ جھاڑ پھونک کرتے ہیں۔ وہ میری باتوں کے جواب میں الٹے سیدھے سوال کر کے الجھا دیتے ہیں۔ مثلاً ان کا کہنا ہے کہ انسان کے تین جسم ہیں روح ، جسم اور نفس۔ مرنے کے بعد روح، اللہ کے پاس چلی جائے گی کیوں کہ وہ پاک ہے اور جسم مٹی میں مل جائے گا، عذاب نفس کو ہوگا۔ جواب میں میں نے کہا کہ روح، جسم اور نفس کے مجموعے کا نام انسان ہے اور اپنے عمل کا وہی ذمہ دار ہے (محمد سلیم، حافظ صلاح الدین، مالی گاؤں)۔

جواب

1- یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ آپ کو ہمارے مشن سے پورا اتفاق ہے۔ ہمارے مشن میں حصہ لینے کی صورت یہ ہے کہ آپ اپنے مقام پر، اپنی استطاعت کے بقدر، بلا تاخیر کام شروع کر دیں۔ مثلاً آپ ایک لائبریری قائم کریں۔ ہم خیال لوگوں کو لے کر ہفتے وار اجتماع کریں۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو الرسالہ کا قاری بنائیں اور ہمارے یہاں کی چھپی ہوئی کتابیں اور پمفلٹ لوگوں کے درمیان پھیلائیں۔ حسب مقدور دعوتی کام کریں۔

2- آپ جانتے ہیں کہ موجودہ زمانہ کمیونیکیشن کا زمانہ ہے۔ آج کمیونیکیشن کے ذریعے وہ فائدہ بالواسطہ طور پر حاصل کیا جا سکتا ہے جو پچھلے زمانے میں براہِ راست طور پر صحبت کے ذریعے حاصل ہوتا تھا۔ ملک کے اندر اور ملک کے باہر کئی افراد اس طرح کام کر رہے ہیں۔ وہ بار بار ٹیلی فون کے ذریعے تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔ وہ اپنے یہاں ٹیلی فونی خطاب کا انتظام کرتے ہیں۔ وہ ماڈرن کمیونیکیشن کے ذریعے مسلسل طور پر ربط میں رہتے ہیں۔ اس طرح وہ دور رہتے ہوئے صحبت کا فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ آپ بھی یہی طریقہ اختیار کر سکتے ہیں۔

3- آپ کے ساتھیوں کے بارے میں میرا قیاس ہے کہ وہ الرسالہ کو صرف ایک بار پڑھ لیتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2008 All issues

Printed page