1- حافظ صلاح الدین عمر 25 سال
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۸، صفحہ ۴۳
کو دعوت الی اللہ کا کام نہیں کہا جا سکتا۔
7۔ آپ کے جو ساتھی کو روح اور جسم اور نفس میں تقسیم کرتے ہیں، اور اس تقسیم کی بنیاد پر اپنا نظریے پیش کرتے ہیں، اُن سے آپ کوئی اور بحث نہ کریں، اُن سے آپ صرف یہ پوچھیے کہ اُن کے اس نظریہ کا ماخذ قرآن میں کہاں ہے۔ اپنے نظریے کے ثبوت میں جب تک وہ کوئی صریح آیت نہ پیش کریں، اُن سے آپ امام احمد کی زبان میں کہیے: ایتونی شیئا من کتاب الله حتی أقول۔ سوال عرض ہے کہ مجھے یہاں ایک ساتھی مل گیا ہے، دعوتی کام کرنے کے لیے۔ میرے اس ساتھی کا نام عبد القيوم شیخ محبوب ہے۔ وہ ناندیڑ کے رہنے والے ہیں۔ میرے ساتھی کا کہنا ہے کہ مجھے اپنی زندگی کے لیے رات دن کام کرنے کا نصاب قرآن اور حدیث کی روشنی میں بتائیے۔ اُن کے اس کہنے پر میں نے اپنی معلومات کے مطابق، اُن سے کہا کہ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم الرسالہ مشن سے جُڑ جائیں، تاہم اُن کو میری اس بات پر سو فی صد اطمینان نہیںہو رہا ہے۔ اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ میں اُن کو کس طرح مطمئن کر سکتا ہوں۔ اس بارے میں ہماری رہ نمائی فرمائیں۔ (کشن جیونت راؤ پاؤٹل، مکھیر، نانڈیڑ، مہاراشٹر)۔
جواب
یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ آپ کو اپنے مقام پر ایک ساتھی مل گیا۔ اب آپ دونوں مل کر مشن کو اچھی طرح چلا سکتے ہیں۔ آپ دونوں کو میری یہ نصیحت ہے کہ آپ خالص غیر تنقیدی انداز میں کام کریں، کسی بھی حال میں آپ تنقیدی انداز نہ اختیار کریں۔ عام لوگوں کے لیے تنقید کا طریقہ ہرگز جائز نہیں۔ آپ دونوں کامل طور پر صبر کا فارمولا اختیار کریں۔ صبر کا فارمولا یہ ہے کہ ۔ پوری طرح مثبت انداز میں کام کیا جائے، کسی بھی حال میں منفی انداز نہ اختیار کیا جائے۔ آپ کے ساتھی کا کہنا ہے کہ اُن کو چو بیس گھنٹے کی دینی مشغولیت کے لیے ایک نصاب چاہیے۔ زندگی کے لیے اس قسم کا نصاب بتانے کی چیز نہیں ہے، بلکہ وہ دریافت کرنے کی چیز ہے۔ آپ کے ساتھی
‹ Previous page Next page › Contents of November 2008 All issues