Al-Risala · November 2008 · page 44

1- حافظ صلاح الدین عمر 25 سال

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۸، صفحہ ۴۴

اگر فی الواقع ایسا ہمہ وقتی نصاب چاہتے ہیں، تو اُن کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ گہرامطالعہ کریں۔ وہ تذکیر القرآن کو بار بار پڑھیں۔ وہ مطالعہ سیرت اور پیغمبرِ انقلاب کا بار بار مطالعہ کریں۔ وہ ماہ نامہ الرسالہ کا بار بار مطالعہ کریں۔ وہ ہمارے یہاں کی چھپی ہوئی کتابوں کا بار بار گہرامطالعہ کریں۔ اس طرح کے گہرے مطالعے کے بعد اُن کو اپنے آپ وہ چیز حاصل ہو جائے گی جس کو وہ ہمہ وقتی نصاب کہتے ہیں۔ اس قسم کا نصاب پوچھ کر جاننے کی چیز نہیں ہے، بلکہ وہ مطالعہ کے ذریعے دریافت کرنے کی چیز ہے۔ عملی پروگرام کے اعتبار سے، سب سے پہلے آپ لوگوں کو صرف ایک کام کرنا ہے، وہ یہ کہ آپ اپنے مقام پر مطبوعاتِ الرسالہ پرمشتمل ایک لائبریری قائم کریں۔ اور لوگوں کو آمادہ کریں کہ وہ اس لائبریری سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ اس کے علاوہ، کسی دن ایک مقرر وقت پر آپ لوگ ہفتہ وار اجتماع کریں۔ اس اجتماع میں الرسالہ مشن سے وابستہ افراد کو اکٹھا کریں۔ اُن میں سے کوئی شخص ایک ہفتے تک باقاعدہ تیاری اور گہرے مطالعے کے بعد لوگوں کے سامنے دعوتی اور تربیتی موضوعات پرگفتگو کرے، یا حاضرین کی نسبت سے، وہ اس موضوع پر اُن کے سامنے ہمارے یہاں کی چھپی ہوئی کسی کتاب کو پڑھ کر سنائے۔ اجتماع کے بعد دعوت کے کام کو مزید آگے بڑھانے کے لیے باہمی مشورہ کیا جائے ۔ اس پروگرام میں بنیادی چیز صرف ایک ہے، اور وہ ہے ماہ نامہ الرسالہ اور یہاں سے چھپے ہوئے دعوتی لٹریچر کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا۔ اگر اس طرح، سنجیدگی اور کامل صبر کے ساتھ کام کیا جائے، تو ان شاء اللہ چند دنوں میں اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور اللہ تعالیٰ کام کے مزید راستے کھول دے گا۔

سوال

الرسالہ مشن سے وابستہ کچھ افراد کی جانب سے صاحب الرسالہ کی جانب منسوب کرتے ہوئے یہ بات مستقل طور پر سننے میں آ رہی ہے کہ مسلمانوں یا کم ازکم مولویوں کو سی پی ایس کا پیغام نہ پہنچایا جائے۔ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ کیا صاحب الرسالہ کی جانب منسوب کی گئی یہ بات درست ہے یا پھر یہ غلط نمائندگی کا کیس ہے۔ براہِ کرم اس معاملے کی وضاحت فرمائیں (شکیل احمد، سہارن پور)۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2008 All issues

Printed page