Al-Risala · November 2008 · page 45

1- حافظ صلاح الدین عمر 25 سال

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۸، صفحہ ۴۵

جواب

مذکورہ بات اگر کسی نے کہی ہے تو وہ بلاشبہ ہماری غلط نمائندگی ہے۔ ہمارا نقطہ نظر ہرگز وہ نہیں ہے جو مذکورہ الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے۔ ہمارا مشن دعوت کا مشن ہے، اور دعوت کے مشن میں مذکورہ قسم کی تفریق درست نہیں ہوتی۔ دعوت کا طریقہ یہ ہے کہ ہر ایک کو مخاطب کیا جائے، البتہ اس خطاب میں افراد کے مزاج اور علمی معیار کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

اس سلسلے میں دوسری بات یہ ہے کہ دعوتی عمل میں مناظرہ (debate) نہیں کیا جاتا۔ مناظرہ، دعوت کی اسپرٹ کے خلاف ہے۔ اگر داعی یہ محسوس کرے کہ وہ خود زیادہ مؤثر گفتگو کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، تو اس کو چاہیے کہ وہ مدعو کو دعوتی لٹریچر دینے پر اکتفا کرے، وہ بے فائدہ بحث و مباحثہ سے اپنے آپ کو بچائے۔

آپ کا یہ طریقہ نہایت مستحسن طریقہ ہے کہ آپ نے ہمارے بارے میں جو بات سنی، اس کو براہِ راست طور پر ہمارے پاس لکھ کر اس کی تحقیق کی۔ آپ نے ایسا نہیں کیا کہ سنی ہوئی بات کو بلا تحقیق بیان کرنے لگیں۔ اس بارے میں ہر شخص کو یہ حدیث یاد رکھنا چاہیے: كفى بالمرء كذباً أن يحدّث بكل ما سمع (صحیح مسلم) یعنی کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات کو بلا تحقیق دوسروں سے بیان کرنے لگے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2008 All issues

Printed page