1- حافظ صلاح الدین عمر 25 سال
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۸، صفحہ ۴۶
خبرنامہ اسلامی مرکز- 189
1- جون۔ جولائی 2008 میں گڈ ورڈ بکس (نئی دہلی) کی طرف سے شاہ عمران حسن کا صوبہ گجرات (انڈیا) کا سفر ہوا۔ یہ سفر تقریباً ایک ماہ پر مشتمل تھا۔ شاہ عمران حسن نے اطلاع دی ہے کہ گجرات کے دو بڑے شہروں، احمد آباد اور سورت میں، بڑی تعداد میں لوگ ماہ نامہ الرسالہ کے ممبر بنے۔ احمد آباد اور سورت میں حلقہ الرسالہ سے وابستہ احباب نے اپنا پورا تعاون دیا۔ مسٹر الطاف ایم رفعت گجراتی زبان کے رائٹر (writer) ہیں۔ انھوں نے صدر اسلامی مرکز کی کتاب ” انسان اپنے آپ کو پہچان‘‘ کا ترجمہ گجراتی زبان میں کیا ہے۔ جلد ہی یہ کتاب گڈ ورڈ بکس سے شائع ہوگی۔ اس کا گجراتی نام یہ ہے: Manav Olakh Tari Jaat Ne (مانو آلوکھ تاری جات نی)
2- الرسالہ مشن کے دعوتی پروگرام کے تحت کشمیر کا سفر ہوا۔ یہ سفر 30 جولائی 2008 کو شروع ہوا اور 31 اگست کو واپسی ہوئی۔ ہمارے پاس الرسالہ کی کاپیاں اور مولانا وحیدالدین خاں کی 20 مختلف موضوعات پر CDs تھیں ۔ بڑی تعداد میں لوگ ماہ نامہ الرسالہ کے Subscriber بنے اور CDs حاصل کیں۔ وادی کشمیر میں بہت زیادہ لوگ الرسالہ مشن سے وابستہ ہیں اور وہ اس کو پھیلانے میں تگ و دو کر رہے ہیں۔ (شاہ عمران حسن)۔ 3- دوردرشن (نئی دہلی) کی ٹیم اور زی نیوز (نئی دہلی) کی ٹیم نے 29 جولائی 2008 کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ٹی وی کی ان دونوں ٹیموں کا موضوع ایک تھا اور وہ تھا حالیہ دونوں میں بنگلور اور احمد آباد وغیرہ میں بم دھماکے کے واقعات۔ سوالات کے دوران بتایا گیا کہ اس قسم کے بم دھماکے اسلامی شریعت میں مکمل طور پر حرام ہیں۔ یہ جہاد نہیں ہے بلکہ فساد ہے۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ ایک معصوم انسان کو مارنا اتنا بڑا جرم ہے جیسے کہ سارے انسانوں کو مار ڈالنا (المائدہ: 32) تاہم ان واقعات کی صرف مذمت کرنا کافی نہیں ضرورت ہے کہ جو لوگ اس طرح کے واقعات میں ملوث ہیں، ان کو عبرت ناک سزا (deterrent punishment) دی جائے ۔ سزا کے بغیر اس قسم کے جرائم بند ہونے والے نہیں۔
4- 30 جولائی 2008 کو اسلامی مرکز (نئی دہلی) کے آڈیٹوریم میں ایک پریس کانفرنس ہوئی۔ اس کانفرنس میں مختلف ملکی اور غیر ملکی ٹی وی اور اخبار کے نمائندے شریک تھے۔ سب سے پہلے صدر اسلامی مرکز نے’’ اسلام اور دہشت گردی‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا۔ خطاب کے بعد سوال و جواب ہوا۔ اور پرسنل انٹرویو کی صورت میں ٹی وی اور اخبار کے نمائندوں کے سامنے اسلام کا نقطۂ نظر واضح کیا گیا۔ آخر میں تمام نمائندوں کے درمیان اسلامی لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ پریس کانفرنس کی پوری کارروائی انگریزی زبان میں ہوئی۔ مختلف نمائندوں کی تعداد تقریباً بیس تھی۔ میڈیا میں اس کو نمایاں طور پر کور (cover) کیا گیا ہے۔ انگریزی رپورٹنگ کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے: 1. New Delhi, July 30 - A leading Muslim scholar Wednesday said a new
‹ Previous page Next page › Contents of November 2008 All issues