Al-Risala · December 2008 · page 27

سیاست کی دو قسم

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۷

سیاست کی دو قسم

سیاست (politics) کا لفظ عام طور پر اُن سرگرمیوں کے لیے بولا جاتا ہے جو کسی مقام پر اجتماعی طاقت کے حصول کے لیے کی جائیں۔ چوں کہ اجتماعی طاقت پر ہمیشہ کسی فرد یا گروہ کا قبضہ ہوتا ہے، اس لیے سیاسی عمل میں اُس کے شروع ہی سے ٹکراؤ کا تصور شامل ہو جاتا ہے، یعنی قابض گروہ کو ہٹا کر اس کی جگہ خود قبضہ حاصل کرنا۔

سیاست کے اس تصور کی بنا پر عام طور پر تبدیلی کی سیاست (politics of change) کو سیاست سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ بڑی سیاست وہ ہے عدم تبدیلی کی سیاست (plitics of no-change) کے اصول پر قائم ہے۔

تبدیلی کی سیاست میں یہ ہوتا ہے کہ ایک منفی نشانہ (negative target) آدمی کا نشانہ بن جاتا ہے۔ اور مثبت نشانہ (positive target) اُس وقت تک کے لیے موخر ہو جاتا ہے، جب تک کہ منفی نشانہ راستے سے ہٹ نہ جائے۔ تبدیلی کی یہ سیاست آدمی کو دو چیزوں کا تحفہ دیتی ہے۔ منفی سوچ، اور تخریبی عمل۔ انسان انھیں دو چیزوں میں گھرا رہتا ہے اور موجود مواقع کو استعمال کیے بغیر وہ ناکامی کے احساس کے ساتھ مر جاتا ہے۔

اس کے مقابلے میں عدم تبدیلی کی سیاست، اول سے آخر تک، کامیابی کی سیاست ہے۔ وہ آدمی کو مثبت سوچ دیتی ہے۔ وہ آدمی کو تعمیری نشانہ عطا کرتی ہے۔ وہ آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے وقت اور اپنی طاقت کو بے فائدہ سرگرمیوں سے بچائے اور مکمل طور پر نتیجہ خیز عمل میں اپنے آپ کو لگا دے۔ تبدیلی کی سیاست کا نشانہ تخریب غیر ہوتا ہے، اور عدم تبدیلی کی سیاست کا نشانہ تعمیر خویش۔ عدم تبدیلی کا مطلب بے تبدیلی نہیں ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ حالت موجودہ سے عملی ٹکراؤ کیے بغیر اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ حالت موجودہ سے ٹکراؤ اکثر حالات میں صرف اپنے وقت اور اپنی طاقت کے ضیاع کے ہم معنی ہوتا ہے۔ ایسا عمل اپنے نتیجے کے اعتبار سے بے عملی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2008 All issues

Printed page