Al-Risala · December 2008 · page 28

کم زور دفاع

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۸

کم زور دفاع

ایک صاحب جو جاہل اور غریب عوام میں کام کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ میں بہت سالوں سے اس طبقے میں کام کر رہا ہوں۔ میں نے پایا کہ یہ لوگ بہت زیادہ جھوٹ بولتے ہیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جھوٹ ہی ان کا کلچر ہے۔ میں نے سوچا کہ ایسا کیوں ہے۔ آخر کار میری سمجھ میں آیا کہ یہ لوگ دفاع کے طور پر جھوٹ بولتے ہیں۔ اس طبقے کا کوئی شخص جب ایک غلطی کرتا ہے اور اس کا آقا اس سے باز پرس کرتا ہے، تو وہ اپنی کم زوری کی بنا پر محسوس کرتا ہے کہ وہ کسی اور انداز سے اپنا دفاع نہیں کر سکتا، اس لیے وہ فوراً جھوٹ بول دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے ایسا نہیں کیا۔

کم زور دفاع کا یہ طریقہ صرف جاہل عوام کی اجارہ داری نہیں، وہ پڑھے لکھے لوگوں میں بھی عام طور پر پایا جاتا ہے۔ اس معاملے کا ایک تجربہ مجھے ذاتی طور پر پیش آیا۔ میں تقریباً پچاس سال سے ایک مشن چلا رہا ہوں بعض لوگوں کو کسی سبب سے مجھ سے اختلاف ہو گیا۔ انھوں نے تقریر اور تحریر کے ذریعے میرے خلاف زبردست مہم شروع کردی۔ آپ ان لوگوں کی تقریروں اور تحریروں کو پڑھیے، آپ پائیں گے کہ ان میں سے کوئی ایک شخص بھی نہیں جس نے علمی دلائل کے ذریعے، راقم الحروف کے نقطۂ نظر کا تجزیہ کیا ہو۔ ان میں سے ہر ایک صرف ایک کام کر رہا ہے، اور وہ ہے کوئی منفی شوشہ نکال کر مجھ کو اور میرے مشن کو بدنام کرنا۔

یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ کم زور دفاع کا ایک معاملہ ہے۔ یہ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ دلیل کے میدان میں وہ شکست کھا چکے ہیں۔ خالص علمی دلائل کے ذریعے وہ میرے نقطۂنظر کو غلط ثابت نہیں کر سکتے، اس لیے وہ عیب زنی اور الزام تراشی کے ذریعے مجھ کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ طریقہ نہ صرف غیرمتقیانہ ہے، بلکہ وہ علمی ذوق کے اعتبار سے نہایت پست طریقہ ہے۔ یہ دفاع کے نام پر خود اپنی شکست کا اعلان کرنا ہے۔

یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ کسی شخص کے پاس اپنے دشمن کو مارنے کے لیے اگر بم ہو، تو وہ ہرگز ایسا

‹ Previous page Next page › Contents of December 2008 All issues

Printed page