Al-Risala · December 2008 · page 43

Idealism can not be achieved in this world.

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۴۳

پریکٹکل طریقہ اختیار کرنے کا مطلب پسپا ہونا یا شکست قبول کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد اپنے لیے فرصت عمل تلاش کرنا ہے۔ ذہنی تناؤ کے ساتھ کوئی شخص ،مواقع کو استعمال (avail) نہیں کر سکتا۔ اس لیے عقل مندی یہ ہے کہ آدمی یک طرفہ طور پر ایڈجسٹ کرلے، تا کہ وہ مواقع کو زیادہ بہتر طور پر استعمال کرنے کے قابل ہو سکے۔

ذہنی تناؤ ایک قسم کی نفسیاتی خودکشی ہے۔ ذہنی تناؤ ہمیشہ کسی خارجی سبب سے پیدا ہوتا ہے۔ اور آدمی اُس سے متاثر ہو کر خود اپنے آپ کو اس کی سزا دینے لگتا ہے۔ ایسی نادانی آپ کیوں کریں۔ اس خود اختیار کردہ سزا سے بچنے کی آسان تدبیر یہ ہے کہ آدمی آئیڈیل ازم کو چھوڑ دے، وہ پریکٹکل بن جائے ۔ وہ اُس فارمولے کو اختیار کرے جس کو ایک شخص نے مثال کی صورت میں اِس طرح بیان کیا ہے: ’’اگر تم چوکور ہو، اور تم کسی گول خانے پڑجاؤ تواپنے آپ کو گول بنالو‘‘۔ یہ شکست کا فارمولا نہیں ہے، بلکہ وہ فتح کا فارمولا ہے۔ کیوں کہ ایسا کر کے آدمی اپنے آپ کو نفسیاتی ہلاکت سے بچا لیتا ہے۔ سوال میں کافی عرصے سے مستقل طور پر آپ کے مؤقر علمی اور دعوتی مجلہ ماہ نامہ الرسالہ کا مطالعہ کر رہا ہوں ۔ میں نے ہر لحاظ سے الرسالہ کو مفید اور چشم کشا پایا ہے۔ مدرسہ کے دیگر اساتذہ بھی الرسالہ سے برابر استفادہ کر رہے ہیں۔ ادارے کے بہت سے نزاعی امور کو حل کرنے میں بھی الرسالہ نے ہمیں خالص عملی رہ نمائی دی اور کئی نازک مسائل نہایت احسن طریقے سے حل ہوگئے۔ تاہم ایک چیز جو مجھے آپ سے عرض کرنا ہے، وہ یہ کہ بسا اوقات آپ ایک انگریزی عبارت نقل کرتے ہیں، مگر اس کا ترجمہ درج نہیں ہوتا۔ اس سے پوری بات سمجھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ اگر آپ ہر انگریزی عبارت کا ترجمہ بھی تحریر فرمادیں تو ہم جیسے لوگوں کے لیے الرسالہ سے مزید استفادہ کرنا آسان ہو جائے گا (مولانا محمد شاہد قاسمی، ہریانہ)۔

جواب

ماہ نامہ الرسالہ میں انگریزی عبارتیں بھی ہوتی ہیں اور قرآن اور حدیث کے حوالے بھی۔ اکثر

‹ Previous page Next page › Contents of December 2008 All issues

Printed page