Al-Risala · December 2008 · page 44

Idealism can not be achieved in this world.

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۴۴

ان کا ترجمہ ساتھ ساتھ موجود رہتا ہے، مگر کبھی کبھی ایسا نہیں ہوتا۔ ایسا بھول کر نہیں ہوتا، بلکہ ایسا بالقصد کیا جاتا ہے۔ ایسا ایک مقصد کے تحت کیا جاتا ہے۔ الرسالہ کے قارئین کو چاہیے کہ وہ اس مقصد کو سمجھیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، الرسالہ ایک مشن ہے۔ مشن لازمی طورپر انٹریکشن (interaction) چاہتا ہے۔ بعض اوقات ترجمہ نہ دینے کا مقصد قارئین کے لیے انٹریکشن کے انھیں مواقع کو پیدا کرنا ہے۔ مثلاً جب الرسالہ میں کوئی انگریزی لفظ یا انگریزی جملے ہوں اور ان کا ترجمہ وہاں موجود نہ ہو، تو غیر انگریزی داں قاری کو چاہیے کہ وہ الرسالہ کو لے کر آس پاس کے کسی انگریزی داں آدمی سے ملے، اور اُس کے ذریعے سے انگریزی عبارت کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ اِس طرح، قارئین الرسالہ کی ملاقات دوسرے لوگوں سے ہوگی اور نتیجہ ایسی ملاقات مشن کی توسیع کا ذریعہ بن جائے گی۔ اسی طرح، جب کبھی الرسالہ میں قرآن اور حدیث کا کوئی حوالہ ہو اور وہاں اس کا ترجمہ موجود نہ ہو، تو غیر عربی داں قاری کو چاہیے کہ وہ الرسالہ کو لے کر قریب کے کسی عالم سے ملے۔ وہ اُس عالم کی مدد سے اس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ اس طرح یہ ہوگا کہ الرسالہ کے قارئین کا تعلق علما سے بڑھے گا اور اس کے نتیجے میں ان کو بہت سے دینی فوائد حاصل ہوں گے۔

الرسالہ کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ ہے کہ اس کے قارئین کا عمومی انٹریکشن بڑھے، جدید تعلیم یافتہ طبقے کے لوگوں کا تعلق علما سے قائم ہو، اور اسی طرح، علما کا تعلق جدید تعلیم یافتہ طبقے کے لوگوں سے قائم ہو۔ اس طرح، دونوں کے اجتماع سے دینی اور دعوتی فوائد کے علاوہ، ان کے لیے ذہنی ارتقا کا دروازہ کھلے اور وہ زیادہ بہتر طور پر الرسالہ کے دعوتی مشن کو آگے بڑھانے میں اپنا رول ادا کر سکیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2008 All issues

Printed page