چند مثالی خواتین
الرسالہ، فروری ۲۰۰۸، صفحہ ۲۱
چند مثالی خواتین
تاریخ میں کچھ ایسی خواتین گزری ہیں جن کو دوسروں کے لیے نمونے کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ ان خواتین میں سے چند خواتین کا مختصر تذکرہ یہاں کیا جاتا ہے۔
ہاجرہ اُمِ اسماعیل
ان خواتین میں سے ایک ہاجرہ اُمِ اسماعیل ہیں جو پیغمبر ابراہیم کی زوجہ تھیں ۔ ان کا زمانہ چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ اللہ تعالی کے حکم کے مطابق حضرت ابراہیم نے یہ منصوبہ بنایا کہ عرب میں صحرا کے فطری ماحول میں ایک نئی نسل بنائی جائے، جو مشرکانہ کلچر کی کنڈیشننگ سے پاک ہو۔ اس مقصد کے لیے ایک خاتون کی قربانی درکار تھی۔ ہاجرہ امِ اسماعیل نے یہ قربانی دی۔ وہ مکہ کے غیر آباد صحرا میں اپنے بچے کو لے کر مقیم ہوگئیں۔
یہ نہایت صبر آزما عمل تھا۔ بظاہر یہ موت کے حالات میں زندگی تلاش کرنے کے ہم معنی تھا۔ جب حضرت ابراہیم نے انھیں بتایا کہ یہ خدا کا حکم ہے، اُس وقت ہاجرہ نے غیر آباد اور بے آب و گیاہ صحرا میں کہا کہ۔ پھر تو خدا ہمیں ضائع نہیں کرے گا: اِذن لا يُضَيِّعُنَا (صحیح البخاری، کتاب الأنبیاء، باب قول الله تعالى: واتّخذ الله إبراهيم خليلاً)۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسا ہی پیش آیا۔ اُن کی نسل سے وہاں ایک ایسی قوم بنی جس کو ایک مغربی اسکالر نے ہیروؤں کی ایک قوم (a nation of heroes) کہا ہے۔
اس واقعے میں تمام خواتین کے لیے ایک عظیم سبق ہے، یہ کہ اگر وہ خدا کے بھروسے پر آگے بڑھ کر کوئی نیک کام کریں تو اُن کو یقینی طور پر خدا کی مدد حاصل ہوگی ۔ نیک کام میں ان کی قربانی ضرور نتیجہ خیز ثابت ہوگی، وہ کبھی رائیگاں نہ جائے گی۔
آسیہ بنتِ مزاحم
اسی طرح کی ایک مثال آسیہ بنتِ مزاحم کی ہے۔ اُن کا زمانہ ساڑھے تین ہزار سال پہلے کا
‹ Previous page Next page › Contents of February 2008 All issues