مریم والدہ حضرت مسیح
الرسالہ، فروری ۲۰۰۸، صفحہ ۲۲
زمانہ تھا۔ اُن کے زمانے میں پیغمبر موسیٰ کا ظہور ہوا۔ اُس وقت فرعون مصر کا بادشاہ تھا۔ فرعون، حضرت موسیٰ کا دشمن ہو گیا۔ لیکن فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم حضرت موسیٰ کے پیغام توحید سے متاثر ہوئیں اور اُن پر ایمان لائیں۔ اِس پر فرعون سخت برہم ہوا اور آسیہ کے قتل کا حکم دے دیا۔ آسیہ بنت مزاحم نے قتل ہونا منظور کر لیا، لیکن وہ دین توحید کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوئیں۔ یہ اُن کے لیے ایک عظیم قربانی کا عمل تھا۔ اُن کی اِس قربانی کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اُن کے ایمان کو قبول کر لیا۔ اُس وقت ان کی زبان سے یہ دعا نکلی: رب ابن لی عندک بیتاً فی الجنة، ونجنی من فرعون وعمله، ونجنی من القوم الظالمین (التحریم: 11) یعنی اے میرے رب، میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے، اور مجھ کو فرعون اور اُس کے عمل سے بچالے، اور مجھ کو ظالم قوم سے نجات دے۔
یہ دعا اسمِ اعظم کے ساتھ کی ہوئی دعا تھی جو اُسی وقت مقبول ہو گئی۔ اِس واقعے میں یہ نصیحت ہے کہ اگر کوئی عورت (یا مرد) آسیہ جیسی قربانی کا ثبوت دے تو اُس کو اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کی توفیق ملتی ہے، اس کو یقینی طور پر قبولیت کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔
مریم والدہ حضرت مسیح
اِسی طرح کی ایک مثال حضرت مریم کی ہے جو پیغمبر مسیح کی والدہ تھیں۔ اُن کا زمانہ ڈھائی ہزار سال پہلے کا زمانہ تھا۔ انھوں نے اپنی زندگی کو مکمل طور پر خدا کے کام کے لیے اور خدا کے ذکر ودعا کے لیے وقف کر دیا تھا۔ اِس کے نتیجے میں اُنھیں خدا کی طرف سے یہ خصوصی عنایت حاصل ہوئی کہ اُن کو رزقِ خداوندی (آل عمران: 37) پہنچنے لگا۔
رزق خداوندی کیا ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی روحانی غذا ہے۔ یہ خدائی فیضان (divine inspiration) ہے، جو خدا کی طرف سے اُس کے خاص بندوں کو عطا ہوتا ہے۔ ایسی عورتیں (یا ایسے مرد) اعلیٰ ربانی کیفیات میں جینے لگتے ہیں۔ اُن کو وہ چیز عطا ہوتی ہے جس کو ربانی حکمت (divine wisdom) کہا جاتا ہے۔ ایسے لوگ خدا کے خصوصی الہامات کا مہبط بن جاتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2008 All issues