Al-Risala · February 2008 · page 23

عائشہ بنت ابی بکر

الرسالہ، فروری ۲۰۰۸، صفحہ ۲۳

خدا کی یہ خصوصی رحمت جو حضرت مریم کو حاصل ہوئی، اُس کا دروازہ ہر عورت اور ہر مرد کے لیے کھلا ہوا ہے، بشرطیکہ وہ اِسییی اخلاص کا ثبوت دے جس کا ثبوت حضرت مریم نے دیا تھا۔ خدیجہ بنت خویلد اِس طرح کی ایک مثالی خاتون خدیجہ بنت خویلد (وفات: 620ء) ہیں۔ وہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ تھیں ۔ ان کو یہ درجہ حاصل ہے کہ انھوں نے آگے بڑھ کر پیغمبرِ اسلام کی دعوت کو قبول کیا۔ پیغمبرِ اسلام کے لیے مکہ کا زمانہ بہت زیادہ تکلیف اور صعوبت کا زمانہ تھا۔ اِس پوری مدت میں انھوں نے کھلے دل کے ساتھ آپ کا ساتھ دیا۔ پیغمبرِ اسلام سے نکاح کے بعد ان کو بہت زیادہ مصیبتیں پیش آئیں، لیکن انھوں نے کبھی آپ سے شکایت نہیں کی۔ وہ ہر حال میں صبر اور شکر کا نمونہ بنی رہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک دن حضرت جبریل ان کے گھر آئے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کو دیکھا لیکن حضرت خدیجہ نے جبریل کو نہیں دیکھا۔ پیغمبرِ اسلام نے حضرت خدیجہ نے کہا کہ یہ جبریل ہیں اور وہ تم کو خدا کی طرف سے سلام پہنچانے کے لیے آئے ہیں۔ وہ تم کو خوش خبری دے رہے ہیں کہ جنت میں تمھارے لیے ایک خوب صورت گھر ہے، جہاں نہ شور ہوگا اور نہ تکلیف (لا صخب فيه ولا نصب ۔ سيرت ابن هشام، جلد 1، صفحہ 259)۔

حضرت خدیجہ کو اِس دنیا میں جنت کی خوش خبری دی گئی۔ یہ واقعہ ایک استثنائی معاملے کو نہیں بتاتا، بلکہ وہ ایک نمونے کو بتا رہا ہے۔ حضرت خدیجہ کے ذریعے تاریخ میں یہ نمونہ قائم ہوا کہ جو عورت (یا مرد) حضرت خدیجہ جیسے صبر اور شکر کا ثبوت دے، اُس پر خدا کے فرشتے اتریں گے اور اِس دنیا میں وہ اُس کو اِس بات کی بشارت دیں گے کہ اگلے مرحلۂ حیات میں تمھارے لیے جنت ہے، یعنی خوشیوں اور راحتوں کی ابدی دنیا۔

عائشہ بنت ابی بکر

اِس طرح کا ایک مثالی نمونہ عائشہ بنت ابی بکر الصدیق (وفات: 678ء) کا ہے۔ وہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ تھیں۔ وہ پیغمبرِ اسلام کی وفات کے بعد تقریباً پچاس سال تک زندہ رہیں،

‹ Previous page Next page › Contents of February 2008 All issues

Printed page