عظمتِ خداوندی کا اعتراف
الرسالہ، فروری ۲۰۰۸، صفحہ ۴۱
عظمتِ خداوندی کا اعتراف
دورِ اول میں خلافتِ اسلامی کو غیر معمولی پھیلاؤ ہوا، اس کے باوجود بنو امیہ کے عہد تک خلافت کا ایک ہی مرکز (دمشق) تھا۔ عباسی انقلاب کے بعد اندلس میں علیحدہ سلطنت قائم ہوئی، اس طرح حکومتِ اسلامی کے دو مرکز ہو گئے۔ جلد ہی بعد مراکش میں تیسرا آزاد سیاسی مرکز قائم ہوا، پھر مصر میں خود مختار حکومت قائم ہوگئی۔ اس طرح ایک کے بعد ایک، آزاد مسلم سلطنتیں قائم ہوتی چلی گئیں۔ ایک عظیم مسلم سلطنت چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی۔ انہی آزاد سلطنتوں میں سے ایک سلطنت وہ تھی جس کو دولتِ سامانیہ کہا جاتا ہے۔ سامانی سلطنت، ایران میں ابھری اور تقریباً ڈیڑھ سو سال تک قائم رہ کر ختم ہوگئی۔ سامانی سلطنت کا ایک حاکم نصر بن احمد بن سامان (وفات: 892ء) تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب اس نے نیشا پور کو اپنی سلطنت میں شامل کیا تو وہاں اس نے ایک جشن منعقد کیا۔ جب وہ اپنے شاہی تخت پر بیٹھا تو اس کی فرمائش کے مطابق، تخت نشینی کی افتتاحی رسم قرآن کی تلاوت سے شروع ہوئی۔ مجلس میں ایک عالم موجود تھے۔ انھوں نے قرآن کی تلاوت کی۔ انھوں نے سورہ المومن کا ایک حصہ پڑھا، جس میں یہ آیت بھی تھی: یوم ھم بارزون لا يخفى على الله منھم شیٔ۔ لمَنِ الملك اليوم، لله الواحد القهار (المؤمن: 16)۔ یعنی جس دن کہ وہ ظاہر ہوں گے، اللہ سے ان کی کوئی چیز چھپی نہ ہوگی۔ آج بادشاہی کس کے لیے ہے، اللہ واحد و قہار کے لیے۔ مذکورہ عالم تلاوت کرتے ہوئے جب اس آیت پر پہنچے تو سلطان نصر بن احمد پر لرزہ طاری ہوگیا۔ وہ ہیبت زدہ ہو کر تخت سے اتر پڑا۔ تاج کو اپنے سر سے اتارا اور سجدے میں گر گیا۔ اس نے کہا: اے میرے رب، بلاشبہ بادشاہی تیری ہے، نہ کہ میری۔
اعلیٰ دعا اور اعلیٰ ذکرِ خداوندی کا تعلق الفاظ سے نہیں ہے، بلکہ انسان کی اپنی نفسیات سے ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ: من تواضع لله رفعه الله (مشكاة المصابیح، رقم الحديث: 5119)۔ اس حدیث کا ایک مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے سامنے جھکا دے، وہی وہ شخص ہے جس کو خدا اس طرح عزت دیتا ہے کہ اُس کو اسمِ اعظم کے ساتھ ذکر اور دعا کی توفیق ملتی ہے، اور جس شخص کو اسمِ اعظم کے ساتھ ذکر اور دعا کی توفیق ملے، اس کو بلا شبہ دنیا ہی میں خدا کی جنت حاصل ہوگئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2008 All issues