حضرت مولا نا وحید الدین خاں صاحب
الرسالہ، فروری ۲۰۰۸، صفحہ ۴۴
مقامی اخبارات میں ایسے بیانات منظر عام پر آئے ہیں جن کا علم و دلیل اور زبان و ادب کی شائستگی سے کوئی تعلق نہیں۔ ان بیانات میں کہیں بھی یہ بات نہیں ثابت کی گئی ہے کہ آپ نے کہاں غلطی کی اور آپ کس طرح (العیاذ باللہ) اہانت رسول کے مرتکب ٹھہرے۔ لہذا جب ان کے پاس آپ کا نقطہ نظر غلط ثابت کرنے کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے تو ثابت ہوا کہ حق اُن لوگوں کا نہیں، آپ کا ساتھ دے رہا ہے۔ کیوں کہ آپ اپنی ہر بات کو قرآن و حدیث کے واضح دلائل کی روشنی میں پیش کرتے ہیں اور زیر نظر مضمون میں بھی آپ نے اسی اسلوب کو اختیار فرمایا ہے۔ الرسالہ اکتوبر 2007 کا شمارہ نظر سے گزرا۔ اس شمارے میں ’’ دین اور منہاج‘‘ کے عنوان سے ایک فکر انگیز مضمون پڑھنے کو ملا۔ یہ مضمون علمی دلائل کے اعتبار سے بہت ہی جامع اور مدلل ہے۔ میں نے اس مضمون کی ایک ایک سطر پر غور کیا اور اب میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ سے اختلاف کرنا کسی عام واعظ و امام تو کجا، بڑے سے بڑے عالم دین کے بھی بس کی بات نہیں ہے۔ اس بات کا کھلا ہوا ثبوت یہ ہے کہ آپ نے مولانا مودودی کے تصور دین پر جو جامع اور مدلل تنقید کی ہے، اس کا جواب نہ مولانا مودودی سے بن پایا اور نہ آج تک جماعت اسلامی کے علما میں سے کسی نے اس کا علمی جواب دینے کی جرأت کی ہے۔ سچائی یہ ہے کہ آپ کی یہ تحریریں آج بھی جواب کے لیے منتظر ہیں۔ آپ بلا شبہ علمی اور فکری اعتبار سے پورے عالم اسلام میں اپنی نوعیت کے واحد عالم دین ہیں۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے علما کی کوئی کمی نہیں ہے، مگر آپ کے اندر جو گوں ناگوں علمی و فکری، ذہنی و قلمی صلاحیتیں ہیں اور عصری و دینی علوم پر جو گہری نظر اور دست رس آپ کو حاصل ہے، وہ کسی دوسرے عالم دین کے یہاں نہیں ملتی ہے۔ اس لحاظ سے آپ کا علمی و فکری قد بہت اونچا اور بلند ہے اور بلاشبہ آپ جیسے مصلح، داعی اور مفکر صدیوں کے بعد ہی پیدا ہوتے ہیں۔ الرسالہ اکتوبر 2007 کے اس تازہ مضمون (دین اور منہاج) کی اس بات نے مجھے خاص طور پر زیادہ متاثر کیا ہے کہ آپ نے اس مضمون میں اپنے مخالفین، جن پر اگر ’’ بدترین مخالفین‘‘ کے الفاظ بھی استعمال کیے جائیں گے تو کم پڑ جائیں گے، ان کا کوئی تذکرہ نہیں کیا، بلکہ نفس مسئلہ کی طرف اپنے فکر ونظر اور قلم و ذہن کو مرکوز رکھا ہے، جب کہ نئی دہلی سے شائع ہونے والا ایک ماہ نامہ خاص طور پر آپ ہی کی بے جا اور سطحی مخالفت میں شائع ہوتا ہے اور جس میں کثرت سے ایسی تحریریں شائع ہوتی ہیں جن میں زیادہ تر آپ کی ذات کو ہدف ملامت بنایا جاتا ہے اور آپ کے خلاف ہر لکھی جانے والی تحریر، خواہ اس میں علم و دلیل کا فقدان ہی کیوں نہ ہو اور اسلوب تحریر کتنا ہی غیر اخلاقی و غیر شرعی کیوں نہ ہو، اس کو صرف اس وجہ سے خوش آمدید کے ساتھ شائع کیا جاتا ہے کہ وہ آپ کے خلاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں ایک طرف، آپ کے مخالفین، الرسالہ مشن سے سخت خائف ہیں اور اس کو نا کام بنانے کے لیے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں، وہاں دوسری طرف، اللہ تعالیٰ الرسالہ مشن کے فروغ کے سلسلے میں غیب سے اسباب مہیا فرما رہا ہے اور وہ الرسالہ کے حلقہ قارئین میں روز افزوں اضافہ کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایک تازہ اور دل چسپ مثال ملاحظہ کیجیے۔ بریلوی مکتب فکر کا ایک ماہ نامہ ’’ جام نور‘‘ دہلی سے شائع ہوتا ہے جس کے خصوصی شماروں میں آپ کے بھی کئی انٹرویو شائع ہوئے ہیں۔ حال ہی میں اس کا ایک خصوصی شمارہ ’’ اجتہاد و تقلید‘‘ کے عنوان سے منظر عام پر آیا ہے اور اس شمارے میں
‹ Previous page Next page › Contents of February 2008 All issues