کامل خیر خواہی، بے آمیز پیغام
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۸
کامل خیر خواہی، بے آمیز پیغام
قرآن کے مطابق، داعی کے اندر دو لازمی صفات ہونا چاہیے ــ کامل خیرخواہی ، اور بے آمیز دعوت۔ یہ بات پیغمبر کی زبان سے قرآن میں اس طرح کہی گئی ہے: أنا لكم ناصح أمين (الأعراف : 68) یعنی میں تمھارے لیے ناصح ہوں اور امین ہوں۔
ناصح کا مطلب خیر خواہ (well-wisher) ہے۔ اور امین کا مطلب ہے انسانوں تک ٹھیک اُسی پیغام کو پہنچانا جو خدا کی طرف سے دیا گیا ہے۔ اس سے کم درجے کا عمل، دعوتی عمل نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مناظرہ (debate) کوئی دعوتی عمل نہیں۔ کیوں کہ مناظرہ، فریقِ ثانی کو زیر کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس کا محرک فریق ثانی کی خیر خواہی نہیں ہوتا۔ اِسی طرح قومی کام بھی دعوت نہیں۔ کیوں کہ دعوت کا کام پوری انسانیت کی خیر خواہی کے لیے ہوتا ہے، جب کہ قومی کام صرف اپنی قوم کی خیر خواہی کے جذبے کے تحت انجام دیا جاتا ہے۔ کامل خیر خواہی کے سوا کسی اور جذبے سے کیا ہوا کام دعوت کا کام نہیں۔
داعی کے امین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے دعوتی کلام میں کسی اور چیز کی آمیزش نہ کرے، وہ صرف خدا کی بات کو پیش کرے ــ مثلاً دعوتی کلام میں معاشی اور سیاسی شکایت جیسی باتیں شامل کرنا امانت کے خلاف ہے۔ اس قسم کی غیر متعلق باتیں شامل کرتے ہی دعوتی کلام، غیر دعوتی کلام بن جاتا ہے۔ جو دعوتی تحریک معاشی اور سیاسی شکایت کی بنیاد پر کھڑی ہو، وہ صرف ایک قومی تحریک ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں دعوتی تحریک۔
داعی کا ناصح ہونا کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ کامل طور پر مدعو کے خلاف نفرت اور منفی احساسات سے خالی ہو۔ اُس کے دل میں وہ مثبت نفسیات ہو جس کو حضرت مسیح نے اس طرح بیان کیا کہ تم ہر ایک سے محبت کرو، یہاں تک کہ اپنے دشمن سے بھی۔ دعوت الی اللہ کے اس قرآنی معیار پر وہی شخص پورا اتر سکتا ہے جو کامل معنوں میں منفی نفسیات سے پاک ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues